نہ خنجر اٹھے گا نا تلوار ان سے یہ باوز میرے آزمائے ہوئے ہیں
7اگست2005کوہونے والی میٹنگ میں شیخ رشید اور آصف شیخ نے الٹی بندوق پر کسی بھی مجاہدآزادی کا نام نہ لکھنے کے فیصلے پر دستخط کی
آر ایس ایس اور کانگریس کے صدر کیسری چندمہتا کے اشاروں پر پنتامبیکر وکیل نے شہیدوں کی یادگار پر شہیدوں کے نام لکھنے کی مخالفت کی
✍️محمد اسماعیل ہاکر
مالیگاوں
یوم جمہوریہ کے موقع پر جنتادل سیکولر کے جنرل سیکرٹری ساتھی مستقیم ڈگنیٹی نے اپنے فنڈ سے ایک تاریخی و خوبصورت و بیمثال عمارت بناکر اس پر اردو. انگریزی. مراٹھی میں آئین کی تمہید لکھا اس کی نقاب کشائی شان ہند نہال احمد صاحبہ کے ہاتھوں عمل میں آئی شہیدوں کی یادگار کو مٹانے والے کانگریسوں کے پیٹ میں درد ہونے لگا اور اپنے غیر سرکاری ترجمان مدیر احرار کے ذریعے ناقص معلومات پر مبنی آرٹیکل شوشل میڈیا پر شئیر کرنے لگے
ساتھی بلند اقبال صاحب اور مستقیم ڈگنیٹی شہیدوں کی یادگار پر مالیگاؤں کے مسلم مجاہدین آزادی جن کو انگریز سرکار نے پھانسی کی سزا دی انکا نام شہیدوں کی یادگار پر لکھا جائے اسکی خاموش کوشش شروع کی مگر ساتھی بلند اقبال صاحب کی موت کی وجہ سے یہ کوشش کچھ دنوں کیلئے سردی ہوئی مگر مستقیم ڈگنیٹی نے اس محاذ پر اپنی کوشش جاری رکھی ہے
مالیگاؤں کی کانگریس اول دن سے ہی شہیدوں کے ساتھ دھوکے بازی کرتی رہی ہے کانگریس کے صدر کیسری چند مہتا(جو آر ایس ایس کے ممبر تھے) کے اشاروں پر پنتامبیکر وکیل نے شکایت درج کرکے ان مجاہدین آزادی کو فسادی ثابت کرنے کی کوشش کی اور کانگریس سرکار میں شہیدوں کی یادگار پر نام لکھا نہیں جا سکا
کانگریس کے مئیر آصف شیخ کی مئیر شپ میں شہیدوں کی یادگار کو شہید کرکے یادگار کو ختم کرکے ہوئے وہاں پر الٹی بندوق بنا دی گئی
یہ قصہ لطیف ابھی نا تمام ہے
*جو کچھ بیاں ہوا ہے وہ آغاز باب تھا
*باقی آئندہ*
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق