مورخہ ۲۷؍نومبر۲۰۲۰ء بروز جمعہ شب ۰۹:۰۹ منٹ پر شہر مالیگائوں کے اسکس ہال میںاردو کونسل کے زیرِ اہتمام مالیگائوں کے ادیب و شاعرطاہر انجم صدیقی صاحب کے اولین شعری مجموعہ’’تاثیر‘‘ کے جشن ِ اجرا کا آغاز علی عبداللہ کی دلنشین قرأت سے ہوا۔اس جشن ِ اجرا کو ابتداتا انتہا احسن طریقے سے سنبھالنے کا فریضہ الکبیر انگلش میڈیم اسکول کے ہیڈ ماسٹر نورالدین نور سے نے انجام دیا۔افضال انصاری صاحب کی تحریک سے مالیگائوں شہر کے مشہور و معروف صنعت کار و ادب نوازجمیل احمد کرانتی صاحب کو ’’تاثیر ‘‘ کے جشن ِ اجرا کی صدارت تفویض کی گئی۔
تقریب کے آغاز میں محمد حسنین اشرف صاحب ’’تاثیر‘‘کے شاعر طاہرؔ انجم صدیقی صاحب کی لکھی گئی حمد کو اپنی سحرانگیز آواز اور دلنشین ترنم سے پڑھ کر اسکس ہال کے حاضرین کو سرشار کر دیا۔ان کے بعد علقمہ کوثر محمد جاوید صاحبہ نے طاہر انجم صدیقی صاحب کی لکھی گئی نعت کو اپنی مسحور کن آواز اور خوبصورت ترنم سے حاضرین کے روبرو پیش کیا تو لوگ عقیدت و محبت سے جھوم جھوم اٹھے اور دونوں ہی بچوں کے ساتھ ساتھ خود شاعر کو بھی دا دو تحسین سے خوب نوازا۔
’’آکاشوانی ‘‘آل انڈیا ریڈیو ،جلگائوں سے تشریف لائے جاوید انصاری صاحب نے ’’تاثیر‘‘ کے شاعر طاہرؔ انجم صدیقی صاحب کی شخصیت اور شاعری کے حوالوں سے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ہی طاہر انجم کو ایک افسانہ نگار ہی سمجھا ، طاہر انجم کے شعری مجموعہ کی اشاعت ان کے لئے حیران کن ثابت ہوئی لیکن ان کے اشعار کے مطالعہ کے بعد مزید حیرت ہوئی کہ وہ اتنی خوبصورتی سے اشعار بھی وضع کر لیتے ہیںاور ان کے اشعار میں ان کی شخصیت ، خلوص ،محبت اور بیباکی اپنے موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔
’’تاثیر‘‘کے جشن ِ اجرا کے ناظم نورالدین نور سر نے اردوکونسل کے صدر اظہر جمیل سر کی ایما پرکونسل کے عزائم بیان کرتے ہوئے کہا کہ اردو کونسل اردو زبان کے کسی ایک فنکار کو اس کی خدمات کی بنیاد پر ہر سال ایک مرتبہ ’’نشانِ سرفراز ‘‘ سے نوازے گی۔’’نشانِ سرفراز ‘‘نامی اس ایوارڈ کے ساتھ اس فنکار کو سند اور خطیر رقم بھی تفویض کی جائے گی۔نیز اردو زبان کی ترویج و اشاعت اور معاونت کے لئے اردو کونسل اپنی رقم سے کتابوں کی اشاعت کرے گی۔مختلف ادبی تقاریب کا انعقاد کرے گی۔ادبی سمینار ،ورکشاپ اورسمپوزیم کے توسط سے بھی ارد وادب کی خدمت کرتی رہے گی۔طلبا ء و طالبات کے لئے بھی مختلف قسم کی تربیتی تقاریب اور انعامی مقابلوں کا انعقاد کرتی رہے گی۔
طاہرانجم صدیقی صاحب کے دونوں بڑے بھائی ریاض احمدصدیقی،سعید احمد صدیقی،برادرِ نسبتی عتیق عبدالعزیز اور شریک ِ حیات رخسانہ طاہر نے مل کر شمع فروزی کی رسم ادا کی۔جبکہ سرورق کی نقاب کشائی کا فریضہ طاہر صاحب کے تین اساتذہ فاروقی عبد الرزاق ،ڈاکٹر الیاس وسیم صدیقی اور ڈاکٹر اقبال برکی صاحبان نے انجام دیا۔
سو سے زائد کتابوں کے مصنف و محقق ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی صاحب نے ’’تاثیر‘‘میں موجود تقدیسی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے اپنا مضمون ’’طاہر انجم صدیقی کی تقدیسی شاعری‘‘ کی خواندگی کرتے ہوئے بتایا کہ شاعر کے ذہن رسا نے بہترین لفظیات سے روایتی حمدیہ مضامین کو خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔
دھولیہ شہر سے تشریف لائے علمی و ادبی خانوادے کے احتشام اطہر نعیمی صاحب نے اپنے تبصراتی مضمون ’’طاہر انجم صدیقی ایک باکمال فنکار‘‘میں ’’تاثیر‘‘کے شاعر سے اپنی ملاقاتوں ،سامنے آنے والے فنکارانہ پہلوئوں اور ’’تاثیر‘‘میںموجود شعری و فنی محاسن پر کلام کرتے ہوئے بتایا کہ شاعر نے خود کو تصنع سے دوررکھا ہے۔جو گزررہی ہے،جوں کی توں رقم بھی ہورہی ہے۔جو دل پر اتررہا ہے من و عن کاغذ پر بھی اتر رہا ہے اور سب سے خاص بات یہ کہ ’’تاثیر‘‘کے اشعار پڑھتے ہوئے ایسا گمان ہوتا ہے جیسے اشعار کی شکل میں افسانے پڑھے جا رہے ہوں۔
’’تاثیر‘‘کے شاعر طاہر انجم صدیقی کے استادِ محترم ڈاکٹر الیاس وسیمؔ صدیقی صاحب نے ’’تاثیرکی پُر اثر شاعری‘‘عنوان سے اپنا مضمون پڑھتے ہوئے حاضرین کے گوش گزار کیا کہ بے علم لوگوں کی دادرسی اور باعلم لوگوں کی خاموشی شعر کی قدر و قیمت کو برباد کردیتی ہے اور فی زمانہ یہ دونوں عوامل اپنا کام کررہے ہیں،پھر سچا شعر کہاں سے آئے؟ لیکن جب طاہر انجم صدیقی جیساتخلیق کار،افسانہ نگار،شاعر،طنزو مزاح نگاراور تجزیہ کارسامنے آتا ہے تو یقین ہو جاتا ہے کہ ابھی خدا اپنے بندوں سے مایوس نہیں ہوا ہے۔انہوں نے مزید فرمایا کہ شعرا کی بھیڑ چال میں طاہر اپنا منفرد راستہ بنانے میں کامیاب ہیں۔ان کی شاعری ہمارے عصر کا نوحہ ہے۔یہ انسانی دکھ اور مصائب کا آئینہ ہے۔بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کا ماتم ہے ،ان کی بقا کی شدید خواہش کی عکاس،عالمِ انسانیت میں پنپنے والے ظلم کے خلاف جہاد اور نفرتوں کے مقابلے میں محبت کا پیغام ہے۔
آئے جے اکیڈمی کے روح رواںعمران جمیل سر نے ’’تاثیر‘‘کے شاعر کے دوست کی حیثیت سے ان کی شخصیت،صفات،تعلیم و تربیت،خیالات و نظریات اور نثر و نظم پر ان کی دسترس کے حوالوں سے خوبصورت تعارف پیش کیا۔
جلگائوں کے تعلیمی ادارہ اقرافائونڈیشن کے چیئرمن ڈاکٹر عبد الکریم سالار صاحب نے ’’تاثیر‘‘کا اجرا کرنے کے بعد اپنے خطاب میں فرمایاکہ آج حالات کا رخ ہمارے خلاف سہی لیکن ہم تعلیم و تعلم کے سہارے اسے اپنے لئے سازگار بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کورونا جیسی وباکے خوف زدہ ماحول میں اسکس ہال کے خونصورت اسٹیج کوتشنگانِ ادب کے لئے سیرابی کا ذریعہ قرار دیا۔ہال میں موجود لوگوں کی بہت بڑی تعداد کی موجودگی میں اقرار کیا کہ مجھے طاہر انجم اور مالیگائوں والوں کا خلوص یہاں کھینچ لایا ہے۔
عزیز یاسین سر نے طاہر انجم صدیقی کے لئے لکھے گئے اپنے سپاس نامہ کی خواندگی بڑے خوبصورت انداز سے کی جبکہ اسی موقع پر شہر مالیگاوں کی مختلف شخصیات،انجمنوں اور اداروں کی جانب سے طاہر انجم صدیقی صاحب کا اعزاز و استقبال بھی کیا گیا۔
محفل کا مرکزطاہر انجم صدیقی صاحب نے اپنے اظہاریہ میں فرمایا کہ ان کی ’’تاثیر‘‘کے سرورق کی نقاش کشائی کرنے والے اساتذہ میں فاروقی عبد الرزاق سر کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ وہ دوسری جماعت سے ہی شعر سے وابستہ ہوگئے ۔ڈاکٹر الیاس وسیمؔ صدیقی صاحب نے انھیں شاہراہِ شاعری پر چلنے اور دوڑنے کا سلیقہ عطا فرمایا تبھی ان کا شعری مجموعہ منظرِ عام پر آسکا ہے جبکہ ڈاکٹر اقبال برکی سر کو انہوں نے اپنا نثری رہنما بتایااور کچھ عام و خاص باتوں کے اظہار کے ساتھ اپنی گفتگو کو ختم کیا۔
اخیر میں صدر نشین جمیل احمد کرانتی صاحب نے طاہر انجم صدیقی صاحب کے اشعار کے حوالوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طاہر انجم صدیقی کے اشعار میں ان کی شخصیت کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے پروگرام کے اختتام تک بھرے ہوئے اسکس ہال میں عوام و خواص کی موجودگی کو طاہرانجم کی محبت قرار دیا۔نیز انہوں نے معلنہ وقت ۰۹:۰۹ منٹ پر پروگرام کے آغاز پر اپنی حیرتوں اور مسرتوں کا اظہار کیااور اردو کونسل کو بڑے حوصلوں سے نوازا۔
تقریب کے اختتام سے قبل ’’تاثیر‘‘کے سرورق کی تزئین کرنے والے عارف انجم صاحب اور ’’تاثیر‘‘کی نوک پلک سنوارنے والے فرحان دل صاحب کا استقبال بھی کیا گیا اور اسسٹنٹ پروفیسر شفیق الرحمن سر نے رسمِ شکریہ ادا کرکے تقریب کے اختتام کا اعلان کیا۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق