*✍️ مومن عمران مدّو بابا مسجد اسلام پورہ*
*✍️امتیاز بلڈر۔ بلڈر بلڈ ڈونر گروپ*
*بھاگ اِن بُردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی*
*بیچ کھائیں گے جو یوسف سا برادر پائیں*
آج کل روزانہ واٹس ایپ پر کوئی نا کوئی ایسی پوسٹ ضرور دیکھنے میں آ رہی ہے کہ کسی *فلانی یا فلانے مریض کو خون کی ضرورت ہے۔* اور نیچے کسی بلڈ ڈونر گروپ کے کسی ممبر یا صدر یا تو پھر مریض یا مریضہ کے بھائی، بیٹے، باپ، شوہر یا رشتے دار کا نمبر ہوتا ہے اور اُن نمبروں پر رابطہ کرنے کو کہا جاتا ہے۔
ہوتا یہ ہے کہ اگر ڈاکٹرز کہہ دیں کہ آپریشن کرنا ہے اِتنی اِتنی بوتل خون لگے گا تب *مریض کے گھر والے جو کہ کافی تعداد میں ہوتے ہیں* فوراً کسی نا کسی بلڈ ڈونر گروپ والوں کو یا کسی ڈونر کو فون کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات ڈونر حضرات کئی کئی لوگوں کو خون دینے پر راضی کر کے لے آتے ہیں *جِن میں سے سب کی سب غریب یا متوسّط طبقہ سے تعلّق رکھتے ہیں کیونکہ اَلحَمدُالِلّہ یہی وہ لوگ ہیں جو بِنا فائدہ کے خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں شاید اِسی وجہ سے یہ غریب یا متوسّط ہوتے ہیں واللہ علم باالصواب* شاذونادر ہی ایسا دیکھنے میں آتا ہوگا کہ کسی امیر فیمیلی کے کسی شخص نے کسی کو خون دِیا ہو بہرحال میں نے تو نہیں دیکھا۔ بات چل رہی تھی کہ کبھی کبھار ضرورت سے زیادہ لوگ خون دینے پہونچ جاتے ہیں *(ایسا صرف امیر گھرانوں یا ذی اثر افراد کے لئے ہی ہوتا ہے)* تب کچھ لوگوں کو صرف شکریہ کہہ کر واپس بھیجنا پڑتا ہے اور بعض دفعہ کئی کئی گھنٹے دوڑ دھوپ کرنے کے بعد بھی کوئی نہیں ملتا *(غریب یا متوسّط مریضوں کے لئے)* اور پھر لوگ بلڈ بینکوں کا رُخ کرتے ہیں جبکہ کئی دفعہ وقت ضائع ہو جانے کی صورت میں اُن کی مجبوری کا فائدہ بھی اُٹھایا جاتا ہے۔
*ہم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ اگر ڈاکٹرز کہیں کہ خون لگے گا تو ہم خود ہی خون دے دیں یا اپنوں میں سے ہی کسی کو خون دینے کے لئے راضی کر لیں؟* جبکہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارا جو بلڈ گروپ ہے وہی ہماری اولاد، بھائی، بہن، ماں یا باپ کا بھی ہوتا ہے، ہم اِن رِشتوں کو خون کا رِشتہ بولتے کیوں ہیں؟ اگر خدانخواستہ نہیں بھی ہے تو کیا یہ ممکن نہیں کہ ہمارے چاچازاد، مامازاد، تایازاد یا رِشتے داروں میں کسی کا نہیں ہوگا؟ ہم نے اکثر پُرانی فلموں میں دیکھا ہے کہ ہیرو کو دوسرا ہیرو خون دیتا ہے یا ہیرو کسی غریب عورت یا آدمی کو خون دیتا اور پھر اُن پر انکشاف ہوتا ہے کہ وہ اُس کا سگا بھائی ہے یا بیٹا ہے جو کہ گاؤں میں سیلاب آنے یا ویلن کی کسی شرارت کی وجہ سے بچھڑ گئے تھے۔
*کچھ لوگوں کا ماننا ہیکہ* ماضی میں اداروں اور کلبوں کے لوگ ایک ساتھ مل کر بلڈ کیمپز کا انعقاد کِیا کرتے تھے جِس وجہ سے بلڈ بینکوں میں خون اسٹاک رہتا تھا اور رات دیر رات زچکی کا مسئلہ ہو چاہے ایکسیڈنٹ کا مسئلہ ہو تو لوگ بلڈ بینکوں سے خون لے لیا کرتے تھے۔
دراصل پہلے بلڈ کیمپز لگتے تھے *تب شہر کے نوجوان اور صحتمند افراد فی سبیل اللّٰہ خون عطیہ کرتے تھے یہ سوچ کر کہ "ہمارا یہ خون کسی غریب ضرورت مند مریض کے کام آئے گا"* اور بے شمار تعداد میں خون کی بوتلیں جمع ہوتی تھیں اور وہی خون بینک میں اسٹاک ہوتا تھا۔ *یہ تو سب کو پتا ہوتا تھا کہ فلاں بلڈ گروپ کی جانب سے لگے کیمپ میں اِتنی تعداد میں خون جمع ہوا مگر بعد میں اُن خون کی بیگوں (بوتلوں) کا کیا ہوا؟ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔*
یہ الگ بات تھی کہ کیمپ میں خون عطیہ کرنے کے باوجود جب ہم کسی مریض کے لئے خون لانے جاتے تھے تب کوئی نا کوئی عذر پیش کر کے ہمیں واپس لوٹا دیا جاتا تھا یا ہمارا ہی خون ہمیں ہی واپس لینے کے لئے عجیب عجیب چارجز کے نام پر ایک اچھی خاصی رقم چکانی پڑتی تھی۔ *اور ہمیں یہ باور کرایا جاتا تھا کہ یہ بینک کا رول ہے* اور اب تو مزید بڑھ گیا ہے۔ اور ایسا اپنے ہی کچھ لوگوں کی ملی بھگت کی بِنا پر ممکن ہوا۔ اِتنے زیادہ چارجز ادا کرنے کے بعد بندہ سوچتا ہے کہ *لے دے کے اُتنے کا ہی پڑ گیا۔*
یہی وجہ ہے کہ شہر میں اب بہت سارے لوگ خون دینے سے پرہیز کرنے لگے ہیں کہ اُنہیں یقین ہو گیا ہے کہ *دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔* اور یہ سچ بھی ہے کہ کچھ لوگ اِس فیلڈ کو بھی کمانے کھانے کا ذریعہ بنا لئے ہیں اور *سمجھتے ہیں کہ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا مگر اُنہیں نہیں پتہ کہ پانی میں ہگا ایک دِن اوپر ضرور آتا ہے۔*
ہر بلڈ کیمپ میں کئی کئی سو بوتلیں جمع کی جاتی تھیں مگر آپ خود بتائیں کہ *کون وہ غریب مریض ہے جِسے ایک بھی بوتل واجبی دام میں یا مفت میں ملی ہو؟* یہ الگ بات ہے کہ کسی صاحبِ خیر نے اپنی جیب سے رقم ادا کر کے غریب مریض کو خون دلوایا ہو۔ اور آج شہر میں کچھ لوگ یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بلڈ کیمپز کا انعقاد نا ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بہت زیادہ پریشانی ہو رہی ہے۔ جبکہ ہمارا ماننا ہے کہ *کچھ ایماندار لوگوں کا اِس فیلڈ سے کنارہ کشی اختیار کر لینے سے تھوڑی بہت دقّت پیش آ رہی ہے۔*
*بہرحال اَلحَمدُلِلّہ آج بھی شہر میں بہت سارے افراد اور گروپز ایسے ہیں جو پوری ایمانداری سے اِس فیلڈ میں کام کر رہے ہیں مگر چند شرپسندوں اور سیاسی بازیگروں کی وجہ سے اُن میں اِتّفاق نہیں ہے جس کا نقصان اُمّت کو اُٹھانا پڑ رہا ہے اور بینکز والے پورا پورا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔*
*یاد رہے یہ مضمون لکھنے سے ہمارا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے "کہ بلڈ کیمپ کا دوبارہ سے انعقاد ہی نا ہو" ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ جو بھی کریں پوری ایمانداری اور شفّافیت سے کریں آپ عوام سے خون جمع کر رہے ہو جو کہ ایک امانت ہے تو پھر پوری ایمانداری سے اُس امانت کو عوام میں واپس بھی لوٹاؤ۔*
*نوٹ۔۔۔ یہ پوسٹ ہمارے حقیقی مشاہدے پر مبنی ہے کسی خاص طبقہ، فرد یا گروپ کو براہِ راست نشانہ بنانے یا دل آزاری کے لئے نہیں لکھی گئی ہے بلکہ ہمارا مقصد ہے کہ بلڈ کے تعلّق سے سارے لوگ ایک پلیٹ فارم پر آ جائیں تاکہ اب اُمّت کا استحصال نا ہو اور نئے لوگوں کو بلڈ ڈونر بنانے کی راہ ہموار ہو*🙏🙏🙏
*✍️ مومن عمران مدّو بابا مسجد اسلام پورہ*
*✍️ امتیاز بلڈر۔ بلڈر بلڈ ڈونر گروپ*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں