(پریس ریلیز)
ناول کرونا وائرس کی وبا جب اپنے شباب پر تھی اور اپنی جان کے ڈر سے سرکاری اسپتالوں اور کوڈ سینٹرس کا اسٹاف ڈیوٹی کرنے سے معذور تھا تب شہر کے کچھ جانثاروں نے انتظامیہ کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے وارڈ بوائز کو جمع کیا اور ان وارڈ بوائز نے فارمل ٹریننگ نہ ہونے کے باوجود جان پر کھیل کر اپنی خدمات پیش کیں۔
ایسے ہی حقیقی کرونا وارئرس کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے شہر کی متعدد سماجی تنظیموں نے اتوار 20 دسمبر کی شب، انصار جماعت خانے میں ایک تہنیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
اس پروگرام کی صدارت ڈاکٹر پرویز فیضی نے کی جو کہ خود کرونا کی وبا کے دوران بے جگری سے اپنے فرائضِ منصبی کو انجام دیتے رہے. مہمان کے طور پر نسیم احمد، مولانا انوار احمد ندوی اور شاہد فائن صاحبان مدعو تھے ۔ یہ صاحبان بھی اس وقت میدانِ عمل میں سرگرم ہوئے جب ذمہ داران بھی گھروں میں قید ہونے ہی میں عافیت تلاش کر رہے تھے۔
جناب شعبان شاہ (صد، نصر فاونڈیشن، مالیگاؤں) اور پروفیسر عبالماجد انصاری(خازن مالیگاؤں سوسائٹی آف ایجوکیشن، ممبئی )نے مہمانوں کی خدمت میں پھول اور شال کا نذرانہ پیش کیا۔ اس موقع پر صدر و مہمانان نے ان تمام وارڈ بوائز کی کئی مہینوں پر محیط خدمات کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ انہیں خوفزدہ ماحول میں امید کی ایک کرن سے تعبیر کیا۔ وارڈ بوائز نے بھی نسیم احمد، مولانا انوار احمد ندوی، ابراہیم انقلابی، راحیل حنیف، سعد عامر ،محمد طلحہٰ اور مولانا مذکر ندوی صاحبان کی کوششوں کو سراہا اور مستقبل میں ان کے ساتھ مل کر کسی بھی ناگہانی صورتحال میں انسانیت کی خدمت کرنے کا یقین دلایا۔ ساتھ ہی نسیم احمد و مولانا انوار ندوی کی جانب سے ان وارڈ بوائز کا کچھ مہینوں کا محنتانہ جو سرکاری کاغذی کارروائی کیوجہ سے موخر ہوا تھا اس کی ادائیگی بھی کردی گئی. اس پروگرام کے ناظم و محرک امتیاز خلیل نے میزبان اداروں کی طرف سے وارڈ بوائز اور ذمہ داران کو بتایا کہ ان کی بے لوث خدمات کے عوض ایک بڑے جلسے میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کا اعترافیہ پروگرام ہونا چاہیے تھا لیکن سچے خادم اکثر کام ہوجانے کے بعد فراموش کردیے جاتے ہیں۔ صدی کی اس خوفناک ترین وبا کے دوران شہر کی بہت سی تنظیموں اور افراد نے خاموش خدمات انجام دی ہیں. انہیں بھی یاد کیا گیا۔ اس مجلس میں مہمانان کرام، وارڈ بوائز کے علاوہ نصر فاونڈیشن کے اراکین، مالیگاؤں سوسائٹی سے وابستہ افراد اور ایم آر گروپ کے ممبران موجود تھے۔ ڈاکٹر سید ذاکر کے شکریے اور حاضرین کے اس عزم کے ساتھ تہنیتی محفل اختتام کو پہنچی کہ جب بھی انسانیت کو ان کی ضرورت ہوگی وہ اسی طرح اپنی خدمات پیش کرتے رہیں گے۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق