ہمارے نوجوانوں نے سوچنا شروع کر دیا ہے- ڈاکٹر الیاس صدیقی
ہمارے نوجوانوں نے سوچنا شروع کردیا ہے اگر وہ سوچ رہے ہیں تو انکی ذہنی صلاحیت بڑھ رہی ہے اگر وہ لکھ رہے ہیں تو انکی تخلیقی صلاحیت پروان چڑھ رہی ہے اور اگر وہ عملی طور پر متحرک ہیں تو انکی ستائش سراہنا اور حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے- ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر الیاس صدیقی صاحب نے صدارتی خطاب میں کیا، آپ نے برملہ اظہار کرتے ہوئے حالات کے پیش نظر انتہائی اہم مقابلے کے انعقاد پر العلم ایجوکیشن سوسائٹی، دی نالج انگلش اسکول، فرنودرومی (یوٹوبر)، ادارہ فیضان ربانی اور اردو سٹی انڈیا پورٹل و منتظمین کو مبارکباد پیش کی، موقع تھا آل مالیگاؤں مضمون نویسی کے نتائج کی تقریب تقسیم انعامات کا جس میں آپ مخاطب تھے مہمان و میزبان پرنسپال رقیہ پروین میڈم نے کہا کہ درس و تدریس کوئی پیشہ نہیں بلکہ ایک روحانی زمہ داری ہے اور ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم اس سے جڑے ہیں- چیف جج پروفیسر عبدالمجید صدیقی صاحب نے نتائج کا اعلان کیا اور اپنے تاثرات کا بھی اظہار کیا، خیال انصاری صاحب نے بھی شریکان مقابلہ اساتذہ کی پذیرائی کی، اعظمی محمد یاسین نے مفصل انداز میں اپنی بات رکھی اور کامیاب مقابلے اور کامیاب تقریب کی منتظمین کو مبارکباد پیش کی، ڈاکٹر محمد حسین مشاھد رضوی نے شرکاء مقابلہ کی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا- علامہ جلال الدین قاسمی صاحب نے بھی دعائیہ کلمات ادا کر کے حوصلہ افزائی فرمائ جبکہ، اقبال نذیر نے اپنی شرکت درج کروائی، اول انعام ہارون انصاری اردو پرائمری اسکول (جے اے ٹی کیمپس) کی معلمہ کنیز فاطمہ(پانچ ہزار نقد، سند، تفسیر القرآن سیٹ، قلم، عطر، کتابوں کا سیٹ)، دوم انعام حرا انگلش اسکول کی معلمہ نجمہ حسام الدین (ڈھائی ہزار نقد، سند، قلم، عطر، کتابوں کا سیٹ)، سوم انعام ایل وی ایچ اسکول کے معلم افتخار انصاری سر(پندرہ سو نقد،سند، قلم، عطر، کتابوں کا سیٹ)، چوتھا انعام اے ٹی ٹی کیمپس کے انعام الرحمٰن سر(پانچ سو نقد، سند، قلم، کتابوں کا سیٹ)، پنجم انعام جمہور کیمپس کے انصاری بلال سر(پانچ سو نقد، سند،قلم، کتابوں کا سیٹ) اور ششم انعام ایم ایس ای اسکول کی انصاری مصباح ترنم (پانچ سو نقد، سند، قلم، کتابوں کا سیٹ)کو تفویض کیا گیا اور تمام ہی شرکائے مقابلہ کو بھی حوصلہ افزائی کے انعامات(سند، قلم، کتابوں کا سیٹ) تفویض کیے گئے- تقریب میں اساتذہ کے علاوہ سرپرست حضرات بھی از اول تا آخر موجود رہے۔ مالیگاؤں گرلز کی طالبات نے قرات، حمد، نعت اور آن لائن نظام تعلیم پر ڈیبیٹ (مباحثہ) پیش کر کے تقریب میں جان ڈال دی جبکہ دی نالج کے معصوم و ننھے منے طلباء نے سنسکرت، عربی و انگلش زبانوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور نقد انعامات حاصل کیے۔ کثیر تعداد میں اساتذہ کے علاوہ سرپرست حضرات موجود رہے، اغراض و مقاصد فرنود رومی اور نظامت کے فرائض رضوان ربانی سر نے بخوبی ادا کیے- رقیہ میم کے شکریہ پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق