١٩٩٩میں تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے شہر مالیگاٶں کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ و برباد کردیا.



*ازقلم انصاری ابوشعیب نہالی*
گذستہ بیس سے پچیس سالوں میں جب سے شہر مالیگاٶں میں تبدیلی کا نعرہ لگایا گیا اور ایسا نماٸندہ چن کردیا جس کے چن کر آنے کے بعد شہر کی سیاست میں صرف روپے پیسے کی ریل پیل ہوٸی خرید وفروخت کا بازار گرم ہوا نواجوان طبقہ  روپے کے عوض اپنی ووٹوں کا سودا کرنے لگا اسی لیے نماٸندہ اپنی من مانی کرنے لگا پیسہ لگاٶ پیسہ بناٶ کی سیاست کانگریس کے نماٸندہ چن کر آنے کے بعد ایسی لت پڑی نوجوانوں میں کے سرعام غنڈه گردی ہونے لگی پہلے پہل ایسا ہوتا تھا کہ کسی بھی وارڈ کے سرگرم سوشل ورکر کو ٹکٹ دیکر چن کر لایا جاتا تھا مگر اب ٹکٹ بھی بلیک ہونے لگا اسی لیے چن کر آنے والا ممبر بھی حرام خوری کے راستے تلاش کرتا ہے 
میں اگر غلط نہیں ہوں تو آدھے سے زیادہ کارپورٹر ٹھیکیداری میں ملوث ہوکر بیت المال کو اپنے باپ کا مال سمجھ کر لوٹ رہے ہیں 

شہر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو سیاست میں آنے روکا جاتا ہے غنڈا گردی کرکے پرانے تمام سوشل ورکر بھی اب تقریباً سیاست سے کنارہ کرچکے ہیں 
اور جو ہیں بھی تو کھانے کمانے میں لگے ہیں 
یہ قوم کے دشمن کبھی شہر مالیگاٶں کی ترقی نہیں ہونے دینا چاہتے
مسلم اکثریت ہوتے ہوۓ بھی ندی کے اس پار سارے عہدے دے دینا محض اس لیے کے اقتدار کی کرسی سے چپکے رہنا ہے 
قوم جاۓ بھاڑ میں مگر یہ سیاسی لوگ اپنی روش نہیں بدلے گے 
کیونکہ ہمیں قوم سے کیا لینا دینا .......

کوئی تبصرے نہیں: