شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ، وہ بے مثال شخصیت، جنہوں نے علم کے حصول کی راہ اپنائی اور پھر راہِ تصوف کے شہنشاہ قرار پائے۔



ہر گیارہویں پر ہم بھی عہد کریں کہ اپنے بچوں کو ہر حال میں تعلیم دلوائیں گے اور غوثِ اعظم کے تعلیمی مشن کو عام کریں گے۔
(پیشکش: رضوی سلیم شہزاد، رضا اکیڈمی مالیگاؤں) 

عین اس وقت جب گمراہی و ضلالت اور فسق و فجور کی تاریکیاں کائناتِ انسانی کا مقدر بننے لگتی ہیں، قدرت کی فیاضی کسی ایسے دانائے روزگار کو رشد و ہدایت کا فریضہ سونپتی ہے جو اپنی سیرت و کردار کی شمع لازوال کی روشنی سے ظلمت زدہ ماحول کو منور کردیتا ہے۔ اس یگانہِ عالم شخصیت کی زندگی عظمت قرآن کا پرتو اور اس کی سیرت کا ہر نقش تعلیماتِ مصطفویﷺ کی ضو لئے ہوئے ہوتا ہے۔
پیران پیر، غوث الاعظم حضرت الشیخ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ بھی ایسے ہی صاحبِ اسرارِ حق تھے، جنہوں نے اپنے کردار کی ضو باریوں اور اپنے مواعظِ حسنہ کی نور افشانیوں کی بدولت عرصہء کائنات کو شریعت و روحانیت کے غیرفانی نقوش بخش دیئے۔ آپ نے عباسی ملوکیت کے سائے میں کمہلائے ہوئے نخلِ اسلام کو پھر سے تروتازہ کردیا۔ آپ کی باطل شکن للکار نے وقت کی سب سے بڑی استبدادی قوت کو یوں لرزہ براندام کردیا کہ شاہان کجکلاہ اپنی خلافت کو عامۃ المسلمین کی بخشی ہوئی امانت سمجھنے لگے۔
آپ ایسے پیران پیر تھے کہ تمام روحانی سلاسل آپ کی عظمت و بزرگی کے قائل ہیں۔ آپ وہ راہنمائے کامل دستگیر تھے کہ جس نے ملتِ اسلامیہ کے نفسِ مُردہ کی مسیحائی کا فریضہ انجام دیا۔ آپ غوث الاعظم تھے اور ہیں کہ بے شمار بندگان حق آپ کے فیوض و برکات کی بدولت جادۂ ہدایت پر گامزن ہوگئے۔ آپ محبوب سبحانی تھے اور ہیں کہ آپ کے محاسن و مناقب بیان کرنے لگیں تو قلم دریائے حیرت میں ڈوب جائے۔ آپ قطب ربانی ہیں کہ جب آپ نے خود کو مامور من اللہ سمجھتے ہوئے اصلاح امت مسلمہ کا فریضہ انجام دینا شروع کیا تو عامۃ الناس تو ایک طرف باجبروت خلفاء بھی آپ کی باز پرس کے احساس سے لرز اٹھتے تھے کہ

نہ تخت و تاج میں، نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے

آپ کا اسم گرمی عبدالقادر اور کنیت ابو محمد ہے۔ آپ کے القاب و اوصاف بے شمار ہیں۔ دنیا آپ کو شیخ المشائخ، قطب الاقطاب، غوث الاعظم، امام الاولیاء، محی الملت والدین کے القاب سے یاد کرتی ہے۔ آپ 470ھ یا 471ھ میں بلاد عجم کے ایک چھوٹے گاؤں ’’نیف‘‘ میں پیدا ہوئے جو گیلان کے متعلقات سے ہے۔ اہل عرب ’’گاف‘‘ کو ’’جیم‘‘ سے بدل لیتے ہیں۔ اس لئے گیلان کوجیلان بولتے ہیں۔ اسی بناء پر آپ جیلانی مشہور ہوئے۔ بعض اصحاب نے جیلانی کہلانے کی اور وجوہات بھی بیان کی ہیں۔
آپ کے والد ماجد حضرت سید ابوصالح موسیٰ جنگی دوست انتہائی متقی و پرہیزگار اور صاحب ایمان شخصیت تھے جبکہ آپ کی والدہ محترمہ حضرت ام الخیر فاطمہ نہایت صالحہ اور عبادت گزار خاتون تھیں۔ والد محترم کی طرف سے آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ اس طور پر آپ صحیح النسب حسنی حسینی سید ہیں۔
جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کی والدہ محترمہ حضرت ام الخیر فاطمہ کی عمر 60 برس کی تھی۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ آپ نے ابھی زندگی کی چند منزلیں ہی طے کی کہ آپ کے والد محترم حضرت سید ابوصالح موسیٰ جنگی دوست علیہ الرحمہ کا انتقال ہوگیا اور اس صالح یتیم فرزند کی تعلیم و تربیت کا تمام بوجھ آپ کی والدہ کے کندھوں پر آپڑا۔
آپ کے نانا حضرت سید عبداللہ صومعی علیہ الرحمہ بھی آپ پر غایت درجہ شفقت فرماتے ہوئے آپ کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں آپ کی والدہ کی رہنمائی فرماتے رہے۔ جب آپ کی عمر 10 سال کی ہوئی تو آپ اپنے شہر کے مکتب میں پڑھنے جایا کرتے تھے۔ ’’بہجۃ الاسرار‘‘ کے مطابق جب آپ سے دریافت کیا گیا کہ آپ کو اپنے ولی ہونے کا علم کب ہوا تو آپ نے فرمایا کہ
"جب میں 10 سال کا تھا تو اپنے شہر کے مکتب میں پڑھنے جایا کرتا تھا۔ راستہ میں ملائکہ میرے پیچھے پیچھے چلتے دکھائی دیتے تھے، جب میں مدرسے پہنچتا تو ان کو بار بار یہ کہتے سنتا کہ ’'اللہ کے ولی کو بیٹھنے کے لئے جگہ دو، اللہ کے ولی کو بیٹھنے کے لئے جگہ دو۔"
جب آپ کی عمر 18 سال کی ہوئی تو ایک دفعہ عرفہ کے دن اپنے گاؤں سے باہر نکلے، اتفاقاً راستہ میں کسی زمیندار کا بیل چلا جاتا تھا۔ اچانک بیل نے مڑ کر ان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا
’’مالہذا خلقت ولا بہذا امرت‘‘
یعنی اے عبدالقادر! تو اس واسطے پیدا نہیں کیا گیا اور نہ ہی تجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ سُن کر آپ کے سینے پر محبت الٰہی اور ذوق و شوق کا بحرِ بیکراں ٹھاٹھیں مارنے لگا اور گھر آکر اپنی والدہ محترمہ کو تمام ماجرا سنا کر تحصیلِ علومِ شریعت و طریقت کی خاطر بغداد جانے کا عزم ظاہر کیا۔ والدہ محترمہ نے اجازت عطا فرماکر چالیس دینار آپ کی گدڑی میں سی دیئے اور دعا فرماتے ہوئے ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین فرمائی۔ والدہ کی یہ تلقین اس وقت بھی آپ کے پیش نظر تھی جب ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے راستہ میں حملہ کرکے تمام مسافروں کا مال و اسباب چھیننا شروع کردیا۔ بالاخر آپ کی یہی صداقت شعاری قزّاقوں کے اس گروہ کوصراط مستقیم پر گامزن کرنے کا باعث بنی۔ اللہ کا یہ ولی جدھر رخ کررہا تھا، رشد و ہدایت کے جواہرِ بے بہا لٹاتا جارہا تھا۔
جب آپ 488ھ میں مرکزِ علوم و فنون اور گہوارہء تہذیبِ اسلامی، بغداد پہنچے تو سب سے پہلے حضرت شیخ حماد بن مسلم دباس علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جواپنے وقت کے عظیم شیخ الفقہ تھے۔ انہوں نے اس شہبازِ طریقت کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔
علومِ دینیہ اور علومِ متداولہ کی تحصیل کے لئے حضرت قاضی ابوسعید ابوالمبارک المعجزوی جیسے شیخ کبیر اور حضرت ابوزکریا تبریزی علیہ الرحمہ جیسے عالمِ یگانہ سے اکتساب فیض کرنے کے ساتھ متعدد دوسرے علماء و فقہاء کے فقہی کمالات سے بھی ایک عرصہ تک خوشہ چینی کی۔ ان میں سے ابو الغنائم محمد بن علی میمون الخراسی، ابوالبرکات طلحہ العاقولی، ابوعثمان اسماعیل بن محمد الاصبہانی، ابوطاہر محمد عبدالرحمن بن احمد، ابوالمنصور عبدالرحمن، ابوالنصر محمد بن المختار ہاشمی، شیخ ابوالخطاب محفوظ الکوذانی، ابوالوفا علی بن قیل حنبلی، ابوالحسن محمد بن قاضی، محمد بن الحسین القادری السراج جیسے نامور محدثین اور فقہاء خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں۔
حدیث شریف پر آپ کی ژرف نگاہی اور دقتِ نظر کا یہ عالم تھا کہ آپ کے اساتذہ کرام آپ کو سند دیتے وقت فرمایا کرتے تھے:
’’اے عبدالقادر! ہم تم کو الفاظِ حدیث کی سند دے رہے ہیں وگرنہ حدیث کے معانی میں تو ہم تم سے استفادہ کرتے ہیں کیونکہ بعض احادیث کے مطالب جو تم نے بیان کئے ہیں ان تک ہماری فہم کی رسائی نہیں۔‘‘

درس و تدریس سے فراغت ہوئی تو محبتِ خداوندی اور معرفتِ ربانی کے اسرار کو سمجھنے کے لئے سرگرداں رہنے لگے۔ عراق کے ویرانوں اور جنگلوں کی طرف نکل جاتے اور کئی کئی روز واپس نہ آتے۔ تلاشِ حق کا جذبہ راسخ تھا، قدرت آپ کو ایک بڑے مقصد کی تکمیل کے لئے تیار کررہی تھی۔ اپنے استادِ محترم قاضی ابوسعید المبارک المخزومی علیہ الرحمہ کے حکم پر ان کے مدرسہ ’’باب الازج‘‘ میں فرائضِ تدریس انجام دینے لگے۔ دور دور سے طالبان علم آپ کی شوکتِ علمی کا شُہرہ سن کر حاضری دینے لگے۔ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مدرسہ کی عمارت ناکافی محسوس ہونے لگی۔
بغداد کے اربابِ خیر، مدرسہ کی عمارت کی توسیع کی خاطر زرِ کثیر صرف کرنے لگے۔ بالاخر 528ھ میں یہ مدرسہ ایک عظیم الشان اسلامی درسگاہ کی شکل اختیار کرگیا۔ اب یہ درسگاہ ’’مدرسہء قادریہ‘‘ کے نام سے چاروں طرف مشہور ہوچکی تھی۔ عام طالبانِ علم ہی آپ کی خدمتِ اقدس میں حاضری نہ دیتے تھے بلکہ نامور علمائے کرام اور مشائخ بھی اس سلسلہ میں آپ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنا سعادت خیال کرتے تھے۔ آپ کے جذبات میں عشقِ خداوندی کی طلبِ صادق جلوہ فگن تھی۔ طریقت کی وادیوں کی طرف رجوع کیا تو ریاضت و مجاہدہ کی طرف رغبت پیدا ہونے لگی۔
علم طریقت و معرفت کے سلسلہ میں آپ نے حضرت ابوالخیر حماد بن مسلم دباس علیہ الرحمہ کی نگاہِ فیض رساں کے انعاماتِ باطنی سے فیوض حاصل کئے جوکہ بغداد کے عظیم المرتبت مشائخ میں سے تھے۔ روحانی اور باطنی کمالات کے حصول کے لئے آپ نے تقریبا پچیس برس ایمان افروز مجاہدوں اور ریاضتوں میں صرف کئے۔

جب آپ نے عبادات، ریاضات اور مجاہداتِ شاقہ کے بعد پورا پورا تزکیہِ نفس حاصل کرلیا تو حضرت شیخ ابوسعید مبارک المخزومی علیہ الرحمہ سے بیعت کی اور ان کے حلقہِ ارادت میں داخل ہوگئے۔ شیخ ابو سعید نے آپ کو اپنے حلقہِ بیعت میں لیتے ہوئے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا۔ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو لقمہ ان کے ہاتھ سے میرے شکم میں جاتا تھا وہ میرے باطن میں ایک نور بھر دیتا تھا۔ آہستہ آہستہ سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی شخصیت علومِ معرفت کے مہرِ عالمِ تاب میں ڈھلتی گئی۔

آپ روحانی سربلندیوں پر فائز ہوئے تو تقاضائے قدرت کی تعمیل میں وہ وقت آپہنچا کہ ایک زمانہ آپ کے انوار و تجلیاتِ معرفت سے مستفید ہوا۔ اس وقت خلافتِ عباسیہ کا آفتاب اقتدار نصف النہار پر تھا۔ ملوکیت کے سائے انوار شریعت کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔ بغداد میں خلفیہ مستنصر باللہ سریر آرائے سلطنت تھا۔ بغداد جو کہ عروس البلاد بھی تھا اور عظیم الشان مسلم سلطنت کا دارالخلافت بھی، اب تاجدارِ اقلیمِ ولایت حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی فکری و روحانی سرگرمیوں کا مرکزِ لازوال بننے والا تھا۔ اس دور کے امراء حکومت کے نشے میں بدمست اور رعایا کے حقوق سے غافل تھے۔ علماء اپنے فریضہِ ایمانی سے بے بہرہ ہوکر آپس میں الجھ رہے تھے۔

جاہل صوفیوں نے طریقت کو شریعت سے علیحدہ اور آزاد ٹھہرا رکھا تھا۔ اسلام جوکہ عالم انسانیت کا چارہ ساز تھا۔ اربابِ اقتدار کے فیصلوں کا پابند بنادیا گیا تھا۔ یہ تھے وہ حالات جن کا مشاہدہ فرماتے ہوئے حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے کے ساتھ ساتھ وعظ و نصیحت، اشاعتِ اسلام، اصلاحِ خلقِ خدا، تجدیدِ دین اور اعلائے کلمۃ الحق کا بیڑا اٹھایا۔

رشد و ہدایت کے سلسلہ کو دراز کرنے میں آپ کی زبان حارج تھی۔ بغداد عربی کا گہوارہ اور فصحائے عرب کا مرکز تھا، جبکہ حضور پیران پیر رضی اللہ عنہ کی مادری زبان فارسی تھی۔ تمام تر علمی و فقہی اور روحانی و نظری کمالات و فضائل کے باوجود آپ جھجک کا شکار تھے۔ ایک رات آپ خواب میں حضور نبی کریمﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضور نبی کریمﷺ نے آپ کو وعظ و نصیحت کی تلقین فرمائی تو انہوں نے اپنے عجمی نژاد ہونے اور عربی دانی کی مہارت نہ رکھنے پر معذوری کا اظہار کیا جس پر سرکار دوعالمﷺ نے سات مرتبہ کچھ پڑھ کر ان کے منہ پر دم کیا اور لعاب دہن ان کے منہ میں ڈالا اور وعظ کا حکم دیا۔ بس پھر کیا تھا ،درِ علم و حکمت وا ہوگیا۔ رشد و ہدایت کا سرچشمہِ سرمدی پھوٹ پڑا۔
متعدد تذکرہ نگار حضور نبی کریمﷺ کی عطائے خاص کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ پر نبی کریمﷺ نے عالمِ بیداری میں کرم فرمایا۔
آپ خود ایک واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں، 

’’دوسرے روز میں بعد نمازِ ظہر کہنے (وعظ و تلقین) کے ارادے سے منبر پر بیٹھا اور سوچتا رہا کہ کیا کہوں۔ میرے اردگرد خلقت کا ہجوم تھا اور ہر ایک میرا وعظ سننے کا مشتاق تھا۔ ہر چند کہ میرے سینے میں دریائے علم موجزن تھا مگر زبان نہیں کھلتی تھی کہ اس وقت میرے جدِّ امجد حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور چھ مرتبہ کچھ پڑھ کر میرے منہ پر دم کیا اور اپنا لعاب دہن میرے منہ میں ڈالا۔ میری زبان فوراً کھل گئی اور میں نے وعظ شروع کردیا۔ اب میری طاقتِ لسانی کی سارے بغداد میں دھوم مچ گئی۔ خود میرے دل میں جوشِ سخن کا یہ عالم تھا کہ اگر کچھ عرصہ خاموش رہتا اور وعظ نہ کہتا تو میرا دم گھٹنے لگتا تھا۔ اول اول میری محفلِ تذکیر میں تھوڑے لوگ ہوا کرتے تھے مگر آخر میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہجوم کی مسجد میں گنجائش ناممکن ہوگئی۔ بالآخر عیدگاہ میں منبر رکھا گیا اور میں نے وہاں وعظ کہناشروع کیا۔‘‘
آپ نے 521ھ میں پہلی تقریر فرمائی۔ ابتداء میں تعداد کم تھی لیکن آپ کی پہلی تقریر نے بغداد میں تہلکہ مچادیا۔ تشنگانِ شوق کا دریا امڈ آیا۔ بغدادیوں نے آپ کی خطابت و موعظت سے متاثر ہوکر بغداد کے باہر ایک طویل و عریض رباط تعمیر کرائی اور یہ سلسلہ اس قدر وسیع ہوتا چلا گیا کہ مدرسہ باب الازج کی تعمیرات اس رباط کی تعمیرات سے متصل و ملحق ہو کر ایک عالی شان زاویہ یا خانقاہ کی شکل میں نظر آنے لگیں۔ آپ یہاں جمعہ، یکشنبہ اور دو شنبہ کو وعظ و تلقین فرمایا کرتے تھے۔ بعض اوقات ستر ہزار سے زائد طالبان راہِ حق آپ کے وعظ میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ سوار اتنے آتے تھے کہ ان کی گرد سے عیدگاہ کے گرد ایک حلقہ بن جاتا تھا اور دور سے تودہ نظر آتا تھا۔
حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے پُر تاثیر مواعظِ حسنہ کا تذکرہ فرماتے ہوئے حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رضی اللہ عنہ ’’اخبار الاخیار‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’حضرت کے بیان میں وہ تاثیر تھی کہ جب آپ آیاتِ وعید کے معانی ارشاد فرماتے تھے تو تمام لوگ لرز جاتے تھے۔ چہروں کا رنگ فق ہوجاتا تھا۔ گریہ و زاری کا یہ عالم ہوتا تھا کہ اہلِ محفل پر بے ہوشی طاری ہوجاتی تھی، جب آپ رحمتِ الٰہی کی تشریح و توضیح اور اس کے مطالب بیان فرمانے لگتے تو لوگوں کے دل غنچوں کی طرح کھل جاتے تھے۔ اکثر حاضرین تو بادۂ ذوق و شوق سے اس طرح مست و بے خود ہوجاتے تھے کہ بعد ختمِ محفل ان کو ہوش آتا تھا اور بعض تو محفل ہی میں جاں بحق ہوجاتے۔‘‘ (بشکریہ ماہنامہ تحفظ)

کوئی تبصرے نہیں: