(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں)
(پریس ریلیز) مالیگاؤں شہر میں کچرا، گندگی ایک بار پھر موضوع بحث بن چُکا ہے نااہل و ناکام واٹر گریس کمپنی کی وجہ سے شہر میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورتِ حال کے باعث پورا شہر ڈمپنگ گراؤنڈ بن گیا ہے چاروں طرف کچرے اور گندگیوں کا انبار لگا ہوا ہے یہی کچرا برسات کے موسم میں ندی، نالوں، گٹروں میں جمع ہوجانے سے نالے ابل پڑتے ہیں اور بارش کا پانی لوگوں کے گھروں، مسجدوں، گلیوں، سڑکوں پر جمع رہتا ہے جس سے شہریان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے صاف صفائی کے ناقص نظام کی وجہ سے مچھر و دیگر مضر کیڑے، مکوڑوں کی بھرمار، ملیریا، ٹائیفائیڈ و دیگر بیماریوں کا بھی خدشہ رہتا ہے باوجود اس کے واٹر گریس کمپنی پچھلے کئی سالوں سے عوام (کارپوریشن) کا کروڑوں روپیہ گبن کرچکی ہے ہر مرتبہ واٹر گریس کمپنی کو کارپوریشن کی جانب سے نوٹس، جرمانہ وغیرہ عائد کرکے بَری کردیا جاتا ہے اور صورتِ حال جُوں کا توُں رہتی ہے اس معاملے پر مالیگاؤں شہر کے سیاست دانوں کے درمیان لفظی جنگ اور ایکدوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے اگر واٹر گریس کمپنی کا ٹھیکہ ردّ کردیا جاتا ہے تو شہر کی عوام نے جو سالوں سے تکلیفیں، پریشانیاں اٹھائی ہیں اور ٹیکس ادا کیا ہیں اُن کا کیا فائدہ؟ نئ کمپنی آئے گی نئے اگریمنٹ کے ساتھ واپس کام شروع ہوجائے گا اگر واقعی میں میونسپل کمشنر صاحب، میئر صاحبہ، موجودہ ایم ایل اے و دیگر لیڈران عوام کے تئیں مخلص ہیں تو واٹر گریس کمپنی سے شرطیہ مدّت کے ساتھ بطورِ جرمانہ فری آف چارج کام کرانا چاہیے لیکن یاد رہے جرمانہ ادا ہونے کے بعد بھی واٹر گریس کمپنی یا اس کمپنی میں شامل افراد کو اگلے ٹھیکے میں شامل نا رکھا جائے تاکہ کوئی دوسری کمپنی بھی اسطرح کی حرکت نا کرسکے۔
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق