مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب کی بر وقت نمائندگی پیرا میڈیکل میں اردو میڈیم طلبہ کے داخلے

 

مہاراشٹر ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی ۔ناسک کے زیراہتمام حکومت مہاراشٹر کی پیرا میڈیکل کالج آکولہ میں بی۔ایس۔سی (پیرا میڈیکل ) میں داخلے کا عمل جاری ہے ۔اس کورس میں داخلہ لینے پر ۔👈🏻ریڈیو گرافی ۔(سونو گرافی)
👈🏻 ۔۔آپریشن تھیٹر 
👈🏻لیباریٹری 
👈🏻 آپٹومیٹری 
👈🏻اینڈواسکوپی 
👈🏻بلڈٹرانسفوزن 
👈🏻کمیونٹی میڈیسین 
👈🏻ایمرجنسی میڈیسین 
جیسے کورسس میں داخلہ ہوتا ہے۔ان کورسس میں داخلے کے لئے بارہویں پاس ہونا لازمی ہے ۔
آج میرٹ لسٹ ظاہر کی گئی تو اس میں 60 میں سے الحمداللہ 12 اردو میڈیم کے طلبہ تھے۔لیکن ان طلبہ کو جنرل میرٹ لسٹ میں شامل نہ کرتے ہوئے علیحدہ سے دیکھایا گیا اور نوٹ لکھ دی گئی کہ ان طلبہ نے بارہویں اردو میڈیم سے پاس کیا ہے اس لیئے ان کا ایڈمیشن کیا جائے یا نہیں اس بارے میں یونورسٹی طئے کرے۔

متعصب ذہینیت کام کررہا تھا اور مقصد صاف تھا کی اردو میڈیم  طلبہ کو میڈیکل میں داخلے سے محروم کیا جائے۔
چند طلبہ اور کالج ذمہ داران و سرپرستوں نے عالی جناب مفتی محمد اسماعیل قاسمی صاحب MLAصاحب سے رابطہ کیا مفتی صاحب نے فورا یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار سے رابطہ قائم کرکے مسلم طلبہ اور اردو میڈیم طلبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور متعصب ذہینیت کی شکایت کی نیز وائس یونیورسٹی  سے سوال کیا کی کب سے قانون تبدیل ہوگیا ہے؟ یونیورسٹی نے کہا کی کسی اردو میڈیم طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو گی۔اور جس نے بھی یہ حرکت کی ہے ان پر کاروائی ہوگی۔

مفتی صاحب کی بروقت نمائندگی پر اردو میڈیم طلبہ کو بڑی راحت ملی اور حکومت و متعصب ذہینیت رکھنے والے آفیسرس کی اردو دشمنی ناکام ہوگئی ۔
اگر مفتی صاحب بروقت کاروائی نہیں کرتے تو ممکن تھا آئیندہ  MBBS..BDS..BHMS..وغیرہ داخلوں میں بھی یہی کیا جاتا۔۔

کوئی تبصرے نہیں: