بھیونڈی ۱۳؍ اکتوبر (نامہ نگار) ایک وقت تھا جب سرکاری ریڈیو آکاشوانی یا آل انڈیا ریڈیو (اے آئی آر) کا نام بہت عزت و توقیرکے ساتھ لیا جاتا تھا، کیونکہ اس کی خبریں مصدقہ اور سچائی پر مبنی ہوتی تھیں۔اس کے مقابلے اُس وقت کئی ریڈیو چینل تھے لیکن آکاش وانی کی بات ہی کچھ اور تھی لیکن اب دیگر سرکاری اداروں کی طرح یہ بھی بی جے پی کا آلہ کاربنتا جا رہاہے۔ ساتھ ہی ملک کے بیشتر ٹی وی چینلوں کی طرح اس نے بھی مبینہ طور پر فرضی خبر پھیلانا شروع کر دیا ہے۔
منگل کے روز آل انڈیا ریڈیو کے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے اپوزیشن پارٹی کانگریس کے بارے میں ایک غلط خبر جاری کی گئی، حالانکہ بعد میں اس ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
ٹوئٹ کر کے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بہا رکانگریس نے تین لیڈروں کو بے ضابطگی اور پارٹی مخالف کارکردگی کے سبب پارٹی کی سلیکشن کمیٹی سے نکال دیا ہے۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ آل انڈیا ریڈیو نے اس ٹوئٹ کے ساتھ کسی لنک کو شیئر نہیں کیا جس میں اس خبر یا جانکاری کی تصدیق ہوتی ہو۔ ٹوئٹر پوسٹ میں بہار کانگریس صدر مدن موہن جھا، کانگریس قانون ساز پارٹی لیڈر سدانند سنگھ اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اکھلیش پرساد سنگھ کے نام پارٹی سے نکالے جانے والے لیڈروں کے طور پر ظاہر کیا گیا۔
آل انڈیا ریڈیو یعنی آکاش وانی ریڈیو کی اس حرکت کے خلاف جہاں ملک بھر میں لعن طعن ہورہی ہے وہیں مہاراشٹر پر دیش کانگریس پریاورن وبھاگ کے ریاستی نائب صدرجناب پرویز خان (پی کے )نے اخباری نمائندوں سے ایک غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک کے بیشتر ٹی وی چینل مرکزی سرکار کے ہاتھوں بک چکے ہیں ایک دور درشن اور آکاش وانی چینل بچا تھا اس کی اس حرکت سے اب الیکٹرانگ میڈیا سے عوام کا اعتبار مکمل طور پر اٹھ گیا ہے۔ بہار کا الیکشن ہونے جا رہا ہے ایسے میں کانگریس پارٹی کو نشانہ بنا کر غلط خبر ٹوئیٹر ہینڈل پر ڈالنا اور پھر اسے ڈلیٹ کرنا یہ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہی ہو سکتا ہے۔ ہم کانگریسی اس بات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ چینل اس بات کا خلاصہ کرے کہ ایسا کیسے ہوااور اس کے لئے وہ پارٹی ہائی کمان سے معافی مانگے اور اس کی وضاحت جاری کرے اور آکاش وانی کے ڈائریکٹر کے خلاف اس غلط خبر کو براڈکاسٹ کرنے کے سلسلے میں تادیبی کارروائی کی جائے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں