(ایک رنگ اگر دوسرے رنگ کی ہتک کرے تو یہ تہذیب کی ہتک ہوتی ہےدیویندر ستیارتھی)
آنکھوں کی پتلیوں پہ لوڈ شیٹنگ کا پہرا تھا -!
کہانی سراے کا وہ آوارہ بنجارا مسافر اپنی چلم جھٹک کر کہانی سراے کی طرف بڑھ رہا ہے - مگر وہاں تو گھنا اندھیرا تھا (پاور آف تھی) اور اسی اندھیرے میں چند کہانی کار موجود تھے "یہاں کیوں کھڑے ہیں" ؟؟بنجارے نے سوال کیا-
پاور آف ہے اور ہال کی چابی ہارون اختر لینے گئے ہیں "
پھر دوسری آواز اندھیرے کو چیرتی ہوئی آئی " تم نے کہانی لائی ہے - دو تین آواز ابھرئی "ہاں" اور تم نے ایک کردار جو اندھیرے کی سیاہی کو اور گہرا کررہا تھا آواز آئی" نہیں "لیکن ابھی ابھی گھر سے نکلتے راستہ میں ایک حادثہ سے متاثر ہوکر کر ایک افسانچہ بنُا ہے وہ پڑھوں گا"
مجھے میں ایک بےچینی سی ہونے لگی میری حلق سوکھ رہی تھی اور مجھے شدت سے بیڑی کی طلب محسوس ہونے لگی - بنجارے نے اپنی جیب سے بیڑی نکالی اور تیلی کو ماچس کے کھوکھے پر رگڑا ایک شعلہ سا روشن ہوا ________اندھیرا دور ہوا اور ایک چہرہ روشن ہوا
دبلے پتلے ،بھورے بال ،رنگ گورا ،ماتھے پہ بے شمار ڈوبتی ابھرتی لیکریں ،آنکھیں جیسے ایکس رے (X-RAY) جو جسم کے آر پار ہوکر اندرون میں کچھ رنگ تلاش کررہی ہوں - اور پھر اچانک بجلی آگئی - پوری کہانی سرائے اُجالوں سے منوُر ہوگی ،
یہ پہلی ملاقات تھی میری "احمد شفیق" سے
اب تو جب بھی کہانی نگر کا وہ بنجارا شہر کی سڑکیں ناپتا روندتا احمد شفیق کی دوکان کی طرف سے گزرتا تو احمد شفیق کھبی پتھروں پہ حرف کاڑھتے نظر آرہے ہیں ،کبھی کوئی مقدس آیت کو پتھروں پہ تراش رہے ہیں تو کبھی خوش نویسی میں مصروف ہیں کبھی طغروں کے نممونے تیار کررہے ہیں ،اُن کے بے شمار شاہکار شہر عزیز کی مسجدوں اور چوک چوراہوں پہ خود بولتے نظر نواز ہوتے رہتے ہیں_
احمد شفیق بہترین خطاط کے ساتھ ہی خوددار انسان درد مند قلمکار بھی ہیں ،اپنے اطراف کے کردار کے ساتھ ہی ملک کے منظر نامہ پر بھی دور اندیش نظر رکھتے ہیں - خطاطی کا ایسا شوق کہ اِس شوق نے انہیں دہلی پہنچایا جہاں ملیشیا کے ایک ادارے نے ان کے فن کو سراہا جو، اُن کے جنون کی حد پر ایک دستخط ہے اور یہی شوق اُن کا پیشہ ٹھہرا
احمد شفیق نے بہت کم عرصہ میں ایک بڑی کہانی اپنے حصہ میں ٹھونک دی جس کی کیل کافی اندر تک دھنس گئی ہے -
شفیق صرف پتھروں پہ ہی حرف نہیں کاڑھتے بلکہ صفحہ قرطاس پہ لفظوں کو رنگنے کا فن بھی انھیں خوب آتا ہے
بولتے رنگ __علامتی رنگ ________آنے والے عہد کی گواہی دیتے رنگ احمد شفیق نے صفحہ قرطاس پہ سوچ کینوس پہ اپنے برش سے ایسا پکاّ رنگ رنگا کہ یہ رنگ ہندوستانی تہذیب پر ایک نشان بن گیا ہے
احمد شفیق کی کہانی قتل "جو انجمن محبانِ ادب کے پہلے شمارے کے صفحہ نمبر 25 پر درج ہے جس میں ایک سفید دیوار پہ زعفرانی اور سبز رنگوں کے ذریعے بیان کی گئی ہے یہ کہانی" قتل "پورے بھارت کی ترجمانی کرتی ہے
مگر ادھر کافی برسوں سے احمد شفیق کہانی کنیوس پہ کوئی رنگ نہیں بکھیر رہے ہیں(حالانکہ ان برسوں میں انھوں نے اپنے عصر کے قلمکار وں کے ناموں کو مختلف انداز میں پینٹ کیا ہے)لیکن فی الوقت وہ مسلسل خاموش ہیں میری دعاُ ہے کہ وہ دوبارہ کہانی رنگ منچ پہ آئیں اور اپنے حصہ کی وہ پینٹنگ مکمل کریں جو ادھوری رہ گئی ہے
یا الٰہی ___________ اس فنکار کے کینوس پہ نت نئے انوکھےتصورات کے ساتھ تا دیر قائم رہنے والے رنگ عطاء فرمائے آمین 2/3/2019 شب تین بجے
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق