*ذرا سا اور رک جاتے*
مرے ساتھی مرے بھائی
تمہاری یاد آتی ہے
بہت ہی یاد آتی ہے
تمہاری خوش مزاجی کو
تمہاری بذلہ سنجی کو
ذہانت کو ٰ متانت کو
نفاست کو ٰ فراست کو
سبھی تو یاد کرتے ہیں
تمہارے پاس صاحب کی
بہت سی خوبیاں بھی تھیں
سیاست کے مسائل کی
پرکھ بھی تھی سمجھ بھی تھی
رفیقوں پر نوازش بھی
بزرگوں کا ادب بھی تھا
کہ مخلص کون ہے اس کو
بخوبی جانتے بھی تھے
نہ عہدوں کی کوئی لالچ
نہ تو دولت کی چاہت تھی
گھمنڈ تھا نہ تکبر تھا
محبت تھی ٰ محبت تھی
سراسر بس محبت تھی
بڑے ہی پیار سے ملنا
وہ مل کر مسکرا دینا
تمہاری ہر ادا بھائی
بہت ہی یاد آتی ہے
مرے دل کی صدا یہ ہے
ذرا سا اور رک جاتے
تمہاری یاد آتی ہے
بہت ہی یاد آتی ہے
ذرا سا اور رک جاتے
ذرا سا اور رک جاتے
( *شکیل حنیف*)
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق