بابری مسجد کو شہید کیا جانا جمہوریت میں جبر کی مثال، ملزمین کی رہائی کا فیصلہ ناقابلِ قبول. (رضا اکیڈمی)


فیصلہ سُنائے جانے کے فوراً بعد ملزمین کا میڈیا پر کھلے عام اقرارِ جرم کرنا نظامِ انصاف کے منہ پر زنّاٹے دار طمانچہ لگانا ہے. 

مالیگاؤں: زوال پذیر جمہوریت والے ملکی حالات میں نظام انصاف کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ رسید کرنے جیسی حرکت کرنے والے بابری مسجد کی شہادت کے ملزمین جانتے ہیں کہ طاقت اور اقتدار کا نشہ اُن کی پشت پناہی کررہا ہے. اسی لیے عدلیہ کے فیصلے کی کھلے عام ہنسی اُڑائی جارہی ہے اور عدلیہ کے باہر آکر اپنے گھناؤنے جرم کا کھلے عام اعتراف کیا جارہا ہے.. اور اس ملک کی اقلیتوں کے حقوق پر شب خون مارے جارہے ہیں، اس طرح کا اظہارِ خیال بابری مسجد کی شہادت کے ملزمین کو بری کئے جانے کے فیصلے کے بعد رضا اکیڈمی سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے کیا... آپ نے مزید کہا کہ بابری مسجد شعائر اسلام تھی، اس کی مسجدیت قائم تھی، ہے اور رہے گی. یہی شریعت کا قانون ہے. آپ نے کہا کہ ہمیں کورٹ کے ذریعہ سنائے گئے اس فیصلے سے ذرا بھی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ جب سپریم کورٹ نے سارے شواہد کے ہوتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ کو مندر بنانے کے لیے دے دیا تو پھر اس مسجد کو شہید کردینے کا کھلے عام اعلان کرنے والوں کو سزا مل جائے، اس کے امکانات کم ہی تھے اور ایسا ہی ہوا بھی.. لہذا اس موقع پر رضا اکیڈمی ملک کے مسلمانوں سے گزارش کرتی ہے کہ دنیاوی عدالتوں سے انصاف نہ ملنے پر دل برداشتہ نہ ہوں، اور اپنے خالق و مالک کی بارگاہ سے لَو لگائیں، اسی سے انصاف کی امید رکھیں... توبہ و استغفار کی کثرت کریں... ناامید ہونے کی بجائے اس بات کا یقین رکھیں کہ ان شاء اللہ وہ دن بھی آئے گا جب انصاف کا بول بالا ہوگا اور ظالم اپنے کیفر کردار کو پہنچیں گے.
اس موقع پر ملکی عدالتی نظام کی ناکامی پر افسوس کا اظہار بھی رضا اکیڈمی کی جانب سے کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ عدالتیں اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت و حصولِ انصاف کو صاف شفاف اور یقینی بنائیں تاکہ ملکی آئین کو سربلندی حاصل ہو.

کوئی تبصرے نہیں: