لال مسجد کے اطراف رضوان بیٹری والے کو طلب کیا گیا۔۔ ‏

حاجی عبدالرؤف(لال مسجد) و اسحٰق سیٹھ زری والا کے گارڈن کے بازو والے روڈ پر کارپوریشن کے ادھیکاریوں نے بڑے بڑے جان لیوا پتھر ڈال کر روڈ بنانے کے نام پر مسلمانوں کے ساتھ تعصبیت کا مظاہرہ کیا جارہاہے اس روڈ کو پچھلے ڈیڑھ مہینے سے بلاک کرکے رکھا گیا تھا حالانکہ روڈ درستی کام چند دنوں میں ہی پورا کرنے کا باونڈ بنایا جاتا ہے واضح رہے کے اسی روڈ سے گزرتے ہوئے ایک سترہ(17) سالہ معصوم لڑکی کی اسکوٹی سلیپ ہوگئی اور نیچے کی سمت بڑے بڑے پتھر ہونے کی وجہ سےلڑکی اسکوٹی سے گر گئی نیچے بڑے پتھر ہونے کی وجہ سے اس کے پیر کے گھٹنےکی کٹوری میں کافی گہرے زخم آئے زخم اتنے گہرے تھے کی اس اس معصوم لڑکی کے گھٹنے کی کٹوری بدلنے کے لئے فورا ناسک کے نجی اسپتال میں منتقل کروانا پڑا اس سے پہلے بھی کئی بڑے حادثات اسی روڈ پر رونماء ہوئے جس کی بناء پر عوام نے رضوان بیٹری والا کو بلایا اس کے بعد رضوان بھائی بیٹری والے جو عوام کی ہمدردی اپنے دلوں میں لئے پھرتے ہیں فورا دست بردار ہوئے سینئہ سپرد کئے ہوئے رضوان بھائی کی غریبوں لئے ہمدردی دیکھ  غریبوں اور  مزدوروں شور مچانا شروع کردیا اور رضوان بھائی زندہ باد کے نعرہ بھی لگائے گئے اسی درمیان عوام میں خوشی کا ماحول بھی پایا گیا تمام محلہ کے ساکنین نے حادثہ کی اطلاع رضوان بھائی کو دی اور پوری داستان سے واقف کرایا جس کے بعد رضوان بھائی نے از خود جان لیوا پتھروں پر بیٹھ کر دھرنا دیا اور اپنا احتجاج درج کروایا اس معاملے کے  فورا بعد رضوان بھائی نے افسران سے رابطہ قائم کرکے دوٹوک انداز میں گفتگو کی اور عوام کے دلوں کی آواز افسران تک پہنچائی اور کہا کے سر یہ اسی فٹی کا روڈ ہے اور آپ صرف بارہ فٹ کی روڈ پر کام کروا رہے ہو.!رضوان بھائی نے دوٹوک انداز میں کہا کے آپ لوگ چوری کرکے کارپوریشن کی ملکیت کو بارہ پچیس کا پلاٹ بنا کر غریبوں کو پیچ رہے ہو تب افسر نے سہمی ہوئی آواز میں جلد کام شروع کرنے کی یقین دہانی کی جس کے بعد رضوان بھائی نے اپنا احتجاج ختم کیا۔رضوان بھائی کے کام کی تعریف کررہی عوام میں کافی خوشی دیکھی گئی اس موقع پرجناب عبدالقادر صاحب،،مبین قابل صاحب،،حفیظ الرحمن ہوٹل والے،،عزیر بھائی،،عبدالغفؔار (وکی) صاحب،،اسمعیل بھائی،،شاہد بھائی،،عبید بھائی،،عمران بھائی،،عبدالرحمن بھائی،،نعیم ہوٹل والے،،خلیل احمد (ایم ایم مدنی گروپ)اویس منتری ثاقب فٹر،،جے ایم ٹیلر،،جمیل مقادم،،ایوب سیٹھ،،ساجد اختر اور انور مولانا صاحبان پیش پیش رہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں: