صوفی ملت کے وصال کے بعد جہاں مالیگاؤں وہیں پوری ریاست میں سوگواری کا ماحول رہا۔ ایسے میں بعض سرپرستوں کی رائے رہی کہ صوفی ملت کی حیات و خدمات کو قلم بند کر کے نسل نو تک پہنچایا جائے تا کہ آنے والے سماج میں صوفی ملت کے متعلق سماجی خدمات کا جذبہ پروان چڑھ سکے۔۔۔۔۔۔۔۔
بے تشہ نظر نہ چلو راہ رفتہگاں ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح
عوامی رائے کے مطابق صوفی ملت کی حیات و خدمات پر تمام طبقہ وہ تمام مکاتب فکر کے لوگوں کی صوفی ملت پر تحریر کو کتابی شکل دی جائے۔ اسی مناسبت سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اپنے طور پر مختلف افراد سے تحریرے حاصل کر رہی ہے وہیں پیرزادہ نورالعین صابری اور سیٹھ اکبر اشرفی ناظم اعلیٰ صوفی جمیل قادری ٹیلر کی سرپرستی میں شہر کے سرکردہ افراد سے ملاقات کرکے صوفی ملت کے متعلق تحریر دینے کا دعوت نامہ دیا جارہا ہے وہیں مختلف شعبہ ہائے جات کے لوگوں سے مل کر اس بات کا اعادہ بھی کیا جارہا ہے کہ جس طرح صوفی ملت کی ساری زندگی خدمت خلق عبارت رہی اسی طرح انشاء اللہ ہم لوگ بھی صوفی ملت صاحب کے مشن پر گامزن رہتے ہوئے قوم ملت کے علاوہ سماج اور ملک کے لیے بساط بھر کوشش کرتے رہیں گے جس طرح ہر سماج کے لوگوں کا صوفی صاحب کے ساتھ مخلصانہ تعلق رہتا تھا اسی طرح آپ حضرات بھی ہماری رہنمائی وہ اعانت فرمائیں گے تاکہ ہم سب مل کر سماج کے لیے کار آمد ثابت ہوسکیں۔ اس بابت منتظمین نے بزرگ عالم دین مولانا عبدالحمید ازہری صاحب۔ مولانا فیروز اعظمی صاحب۔ حافظ اعنایت محمدی صاحب۔ مولانا عبید الرحمان صاحب۔ ۔۔۔
تمام شخصیات نے صوفی ملت سے متعلق نم دیدہ آنکھوں سے صوفی ملت سے متعلق اپنے تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خدمت خلق کا مشالی کردار بتایا اور گوناگوں اوصاف تذکرہ کرتے ہوئے دعائیں مغفرت کی وہیں اپنے بیانات عکس بند کرواتے ہوئے اپنی تحریر دلایا اور کہا کہ مختصر تحریر میں صوفی ملت کی خدمات کا احاطہ کرنا تو نہ ممکن ہے پھر بھی ہم اپنی رائے صدق دل سے قلم بند کر کے دیں گے منتظمین نے ہر جگہ اظہار تشکر کے ساتھ دعائیں خیر کی درخواست کی۔ وہیں مزید سرکردہ افراد سے ملنے کا لائحہ عمل بھی بروئے کارہے مزید تمام لوگوں سے آئندہ ہ دنوں رابطہ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ شوشل میڈیا کے ذرائع سے بھی ہر خاص وہ عام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی اپنی آراء تحریری شکل میں ارسال کرسکتے ہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں