تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کی گندی سیاست بند کرو آل انڈیا امامس کونسل شاہین باغ نئی دہلی

 
22 ستمبر 2020
جاری پارلیمنٹ اجلاس میں مرکزی وزیر برائے داخلی امور جی کشن ریڈی کی جانب سے تبلیغی جماعت پر دیئے گئے بیان پر آل انڈیا امامس کونسل  کے قومی ناظم عمومی مفتی حنیف احرار سوپولوی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: مرکزی وزیر کا بیان توہین عدالت کے مترادف ہے* کیونکہ ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے خود اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ *ملک میں کرونا وائرس دہلی نظام الدین مرکز یا تبلیغی جماعت کے ممبران کی وجہ سے نہیں پھیلا،* اس کے باوجود مرکزی وزیر پارلیمنٹ میں بیان دے رہے ہیں کہ ملک میں کرونا نظام الدین مرکز دہلی سے پھیلا جس کی وجہ سے دہلی پولس نے سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔اور دیگر اسٹیٹ کے اندر بھی تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں کی گرفتاریاں ہوئی اور بعد میں ان کو باعزت بری بھی کیا گیا اور ان کے اوپر لگائے جانے والے تمام الزامات کو ان پر سے ہٹا لیا گیا.
 ایسے میں وزیر برائے داخلہ کا یہ بیان قابل مذمت ہے نیز یہ بیان ہندو مسلم نفرت کو فروغ دینے کے لیے دیا گیا ہے۔
*آل انڈیا امامس کونسل اس طرح کی غیر ذمے دارانہ بیان بازی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اس کو جماعت کا سہارا لے کر مسلمانوں پر حملہ گردانتی ہے۔*
  *آل انڈیا امامس کونسل کے جنرل سیکریٹری مفتی حنیف احرار قاسمی نے کہاہےکہ مرکزی وزیر کا بیان بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلم دشمنی کی سوچ کی بنا پر ہے جو آر ایس ایس کے اشارے پر سرگرم عمل ہے*
 کونسل جنرل سیکریٹری مفتی احرار قاسمی نے کہا مرکزی وزیر برائے داخلی امور کو راجیہ سبھا میں بیان دینے سے قبل ملک کی مختلف عدالتوں سے باعزت بری کیے گئے تبلیغی جماعت کے لوگوں کے فیصلوں کو پڑھ لینا چاہئے تھا، اگر وہ پڑھ لیتے تو شاید وہ ایسا غیر ذمہ داران بیان نہیں دیتے.
 لیکن اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ برسر اقتدار پارٹی نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کا بیڑا اٹھالیا ہے اور وہ بس موقع کی تلاش میں رہتی ہے۔
 *اس لیے آل انڈیا امامس کونسل عدالت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس طرح کی بیان بازی پر فورا لوگ لگائی جائے۔ اور جی کشن ریڈی کو چائیے کہ مسلمانوں سے اور ملک سے معافی مانگے*
زبیر احمد قاسمی
نیشنل میڈیا کوڈینیٹر:
*آل انڈیا امامس کونسل*

ليست هناك تعليقات: