دنیا والوں سے جب انصاف نہ ملے تو دنیا بنانے والے کی عدالت سے رجوع ہونا ہی مسلمانوں کا شیوہ ہے. (مولانا غلام فرید)
بابری مسجد کی جگہ پر مندر کے سنگ بنیاد کی مخالفت میں دفتر رضا اکیڈمی سمیت شہر کی بیشتر مساجد میں اجتماعی دعا کا اہتمام
-------------------------------------------
مالیگاؤں: یا اللہ ہم مسلمانوں کو معاف فرما، ہم تیرے کمزور بندے تیرے گھر کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے، ہم نے مسجدوں کو آباد کرنا چھوڑ دیا تو ظالم مشرکین نے مساجد کی حرمت کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی. مولیٰ ہمیں ہمت دے، طاقت دے، صبر دے اور غلبہ دے، ہمارے بازوؤں میں قوتِ حیدری عطا فرما. تاکہ ہم دوبارہ شعائر اسلام کو اس کی عظمت و شان کے مطابق اس سرزمین پر ایستادہ کرسکیں، مولیٰ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق عطا فرما، رب قدیر ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچا. ہم کمزور ہیں، بے بس ہیں، دعا ہی کرسکتے ہیں، مولیٰ ہمارے بازووں میں قوّتِ حیدری عطا فرما پھر سے تیرے گھر کی بازیابی کے اسباب عطا فرما.... ان رقت آمیز جملوں کا اظہار آج بابری مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر کے سنگ بنیاد کی مخالفت میں شہر کی مختلف مساجد میں اجتماعی دعا کے دوران کیا گیا.
واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں سپریم کورٹ کے یک طرفہ فیصلے کے بعد آج 5 اگست کو بابری مسجد کی اصل جگہ پر حکومتِ وقت کی سرپرستی میں رام مندر کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا گیا... جس کی مخالفت کرتے ہوئے رضا اکیڈمی سمیت ملک بھر کی مختلف مذہبی تنظیموں اور سرکردہ افراد کی جانب سے اس دن یوم دعا منانے اور صبر و ضبط سے کام لینے کا اعلان کیا گیا. مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم رضا اکیڈمی ممبئی کے بانی و سکریٹری الحاج محمد سعید نوری کے اعلان پر مالیگاؤں کی بیشتر مساجد و مدارس میں ہزاروں مسلمانوں نے اپنے طور پر انفرادی و اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کیا جبکہ گھروں میں خواتین نے آیت کریمہ کا ورد کیا اور بارگاہ ایزدی میں دعائیں کیں. اس موقع پر کرونا وبا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سوشل ڈسٹینسنگ کے ساتھ دعاؤں کا اہتمام کیا گیا.
اسلامپورہ مسجد حاجی دوست محمّد میں استاد الحفاظ حافظ شاہد رضوی نے رقت آمیز انداز میں بارگاہِ رب العالمین میں دعا فرمائی. اسی طرح مسجد فاروق اعظم دیانہ میں حافظ ذوالفقار رضوی، مسجد صدیق اکبر میں مولانا عبیداللہ خان رضوی، مسجد عائشہ حاجیانی میں حافظ شاہد رشیدی. مسجد مولانا یونس مالیگ میں حافظ احسان رضا قادری کے علاوہ مسجد مولیٰ علی شیرِ خدا، مسجد بانو مریم قطب الدین، مسجد صغریٰ حجن، تاج الشریعہ مسجد، مسجدِ نصیر، مسجد پاسبانِ ملت، مسجدِ رضا، مسجد بانو مریم قطب الدین، مسجد علّامہ حامد رضا، مسجد عثمانِ غنی دیانہ کے علاوہ درجنوں مساجد اہلسنّت میں ائمہء کرام نے اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کیا. دفتر رضا اکیڈمی پر منعقدہ دعائیہ مجلس میں ڈاکٹر رئیس احمد رضوی، رضوی سلیم شہزاد، حافظ شریف رضوی، مولانا غلام فرید، حاجی محمد رضوی، شہزاد صدیقی و دیگر اراکین اکیڈمی موجود رہے. یہاں بھی سوشل ڈسٹینسنگ کو ملحوظ رکھتے ہوئے بابری مسجد کی بازیابی کے لئے دعا کی گئی. اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر رئیس احمد رضوی نے کہا کہ بابری مسجد کی مسجدیت کو قیامت تک ختم نہیں کیا جاسکتا، حضور مفتی اعظم علامہ شاہ مصطفی رضا خان قادری نوری علیہ الرحمۃ والرضوان کے ایک فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ ایک مرتبہ جس جگہ مسجد تعمیر ہوجاتی ہے وہ جگہ قیامت تک کے لیے مسجد کہلاتی ہے چاہے وہاں کسی طرح کی عمارت تعمیر ہو جائے، یا بت خانہ تعمیر کردیا جائے یا پھر نمازوں کا اہتمام روک دیا جائے، اس جگہ کی مسجدیت ہمیشہ باقی رہتی ہے. مولانا غلام فرید نے کہا کہ جب ہر طرف سے مایوسی نظر آنے لگے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معبود حقیقی سے رجوع ہوں، مایوسی کو اپنے قریب بھی نہ آنے دیں، توبہ و استغفار کو لازم کرلیں یقیناً خدائے جبار و قہار ظالموں کی پکڑ فرمائے گا. دفتر رضا اکیڈمی پر حافظ شریف احمد رضوی نے خصوصی دعا فرمائی....
______________________________
RAZA ACADEMY
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں