‎ماہِ محرم میں کھلونوں کی دکانوں پر ” گن کلچر اور مقصد شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ از۔ عطاءالرحمن نوری (ریسرچ اسکالر)،مالیگاوں


         محرم الحرام کا مہینہ تمام عالم اسلام کو واقعہ کربلا کی یاد دلاتا ہے ۔ غمِ حسین میں ڈوبے وجود آج بھی جب کربلا کا تصور کرتے ہیں تو آنکھیں  آبدیدہ ہو جاتی ہیں۔جہاں اس ماہ میں ہمیں قرآن خوانی کی محفلیں، تقریروں کی مجلسیں اور سبیلوں کا اہتمام نظر آتا ہے وہیں کھلونوں کی دکانوں کی کثرت بھی نظرآتی ہے ۔ بچوں کے لیے کھلونے خریدنا یا ان کے لیے کھیل کا سامان مہیا کرنا بُرا نہیں ہے اور نہ ہی اسلام میں اس کی ممانعت ہے بلکہ کئی ایسے کھیل ہےں جن کی ترغیب خود مذہب اسلام دیتا ہے ۔ مگر افسوس !کھلونے کی دکانوں پر محرم میں خصوصی طور پر نیزے ،  تلوار ، شہنائی ، ڈھول ، تاشے ،باجے ، بندوقیں اور مختلف قسم کے کھلونے دستیاب ہوتے ہیں۔ بچوں کی اکثریت ہتھیاروں جیسے مصنوعی کھلونے ہی خریدتی ہے ، پھر یہ بچے نہ اذان کا وقت دیکھتے ہیںاورنہ ہی مریضوں کا خیال کرتے ہیں، بس اپنی دُھن میں اپنا الگ ہی راپ اَلاپتے ہیں۔

          گذشتہ چند سالوں سے نت نئی ڈیزائنوں کی مصنوعی بندوقوں کا چلن عام ہے۔پانچ سو سے دو ہزار روپے تک کی بندوقیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔معلوم نہیں والدین کس سوچ کے ساتھ اپنے بچوں کو ” گن کلچر “ کی طرف راغب کر رہے ہیں؟ چند دن پہلے تک اسکولوں کی لائیو کلاسیس کا مسئلہ درپیش ہوا تو سیکڑوں والدین نے موبائیل اور نیٹ ریچارچ کی کمی کا بہانہ بنایا اور اب ہزاروں روپے بے دریغ بچوں کی بے جا خواہشات کی تکمیل پر خرچ کر رہے ہیں۔ جب والدین ہی سنجیدہ نہیں ہے تو بچوں سے اخلاقی قدروں کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ؟ خواہشات نفس کی تکمیل پر ہزاروں روپے خرچ کرنا اور پھر آفات ارضی وسماوی پر ریلیف کٹ کی تقسیم کا انتظار کرنا ، دانش مندی کی علامت نہیں ہے ۔ مستقبل قریب میں اسکولی لوازمات کا انتظام بھی کرنا ہے ۔ مگر افسوس ! منصوبہ بندی سے پرے ” پب جی “ اور دوسرے فائٹرز گیم کے طرز پر بچوں کو کھلونے دلائے جا رہے ہیں۔ 

          بچے ان بندوقوں سے کبھی کتوں کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی بکریوں کو چھرّہ مارتے ہیں اور کبھی کبھی آپس میں لڑائی جھگڑا کر لیتے ہیں۔کیا اسلام اسی کی تعلیم دیتا ہے ؟ کیا اسلام نے جانوروں کے حقوق نہیں بیان کیے؟ کیا اس سے امام پاک کی شہادت کا مقصد فوت نہیں ہو رہاہے ؟ جن ایام میں بچوں کے ہاتھوں میں قرآن شریف ، تسبیح ، اوراد و وَظائف کی کتابیں ہونا چاہیے ان دنوں میں چند بچے اور بہت سارے نوجوان دھینگا مستی کرتے نظر آتے ہیں۔ ماہِ محرم میں مجلسوں کا انعقاد کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ خرافات کو روکنے کے لیے صرف چند جملے بول کر اپنا دامن نہ چھڑائیں بلکہ بد عملی کے خاتمے کے لیے عملی کوشش کریں، رسومات محرم کو بدعت کہنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پوری انرجی منفی باتوں کو ثابت کرنے میں ضائع کرنے کی بجائے معاشرے کی اصلاح کی کوشش کریں۔ اسی طرح والدین کو بھی چاہیے کہ مروجہ غیر شرعی رسومات میں بہنے کی بجائے بچوں کی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تربیت کریں۔ بچے نازک شاخ کے مانند ہوتے ہیں، انھیں جس طرح ڈھالنا چاہوں گے ڈھل جائیں گے ، اس لیے کھیل کود میں بھی ذہنی تربیت کا خاص خیال رکھیں، ہرگز ایسے کھلونے نہ دلائیں جس کا بچوں کی ذہنیت پر منفی اثر پڑتا ہے اور حتی الامکان خرافات و بدعات سے پرہیز کریں۔ اللہ پاک ہم سب کو عقل سلیم عطا کرے۔ آمین

کوئی تبصرے نہیں: