11اگست بروز منگل کو تقریباً چار وارڈ وارڈ نمبر 3۰4۰12۰14کی غیور عوام جس میں مرد وخواتین شامل تھے شہر کے سر فہرست میں رہنے والے محترک شخص رضوان بیٹری والے کی قیادت میں کارپوریشن کا گھیراؤ کیا۔اور دھرنا آندولن کیا چونکہ جتنے وارڈ کے لوگ اس دھرنا آندولن میں شامل تھے وہ وارڈ تین سال سے لاوارث ہے پکے وارڈ میں اتنی تکلیف اور پریشانی نہیں ہے جتنی وارڈ نمبر 3۰4اور 14نمبر میں ہے ان وارڈوں کے ناکارہ نکمے نااہل کارپویٹر تمام مسائل سے چشم پوشی کرتے آرہے ہیں مگر ان وارڈوں کی عوام نے تھک ہار کر اور برداشت کی حدیں پار کر شہر کے محترک سیاسی رکن رضوان بیٹری والے کو کئی مرتبہ مدعو کیا حالات سے واقف کروایا یہاں تک کہ آفسیران وسٹی انجینئروں کو آن دی اسپورٹ پر بلواکر دورہ بھی کروایا مگر برا ہو اس شہر کے ناکارہ کارپوریشن کمشنروڈپٹی کمشنر انجینئر وآفیسران و پوری کارپوریشن انتظامیہ کا جو کچے وارڈ اور علاقے میں عوامی بنیادی اور ضروری تعمیری کام کاج نہیں کرسکتی
آج چھ ماہ سے وارڈ نمبر 14گولڈن نگر سے مستصل محلہ محمد آباد جو کہ خلیل ہائی اسکول سے لگ کر واقع ہے اس علاقے میں تین سالوں سے ایک مسئلہ آج کے نااہل نمائندوں نے اور ناہی کارپوریشن کے ناکارہ کمشنر و پوری کارپوریشن انتظامیہ نے حل نہیں کیا۔جوکہ ایک نالہ خلیل ہائی اسکول سے لگ کر چھ ماہ سے بند ہے اور نالہ بند ہونے کی صورت میں اس محلے کی عوام میں انتشار ہوگیا ہے سروے نمبر 142کی خواتین نے کئی جگہوں سے چھوٹی گٹریں بھی بند کردی ہے نتیجہ یہ کہ سروے نمبر 135کی عوام کو بند گٹروں کا پانی ابلنے سے آمدورفت کی پریشانی ہے۔ایک طرف مرکزی وریاستی سرکار پھر سے کرونا وائرس کی مکمل روک تھام کیلئے مہاراشٹر میں دفعہ 144نافذ کرچکی ہے اور ڈپارٹمنٹ بھی مٹینگ لیکر ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا اعلان جاری کرچکی ہے مگر اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ شہر کے 80فیصد کچے اور خستہ حال وارڈوں میں گندے پانی کی نکاسی نا ہونے سے اور گٹریں صاف نا ہونے سے کچروں کا انبار ہفتوں لگا رہنے سے کیا وبائی بیماری جنم نہیں لے سکتی ہے؟
کیا ناکارہ کمشنر و کارپوریشن انتظامیہ اور ڈپارٹمنٹ کچے علاقے کی عوام کو ایسے ہی مارڈالے گی یا پھر کچھ کام کاج کریگی یا کروائے گی
یاد رکھنا کمشنر وپوری کارپوریشن انتظامیہ جس طرح سے 11اگست کو تحریری شکل میں سیکنڑوں مردخواتین کو بھروسہ دلایا کہ 12اگست سے سروے کیا جائیگا اور 15اگست کے بعد سے عوامی بنیادی ضروری تعمیری کام کیا جائیگا لیکن ناہی محمدآباد کا سروے کیا گیا ناہی کام کاج کی کوئی آس نظر آرہی ہے یعنی ناکارہ کمشنر و پوری کارپوریشن نے عوام کے بھروسے کا وشواس گھات کیا ہے انشااللہ اسکا بھگتان تو آنے والے ایام میں کارپوریشن کمشنر وانتظامیہ و بھگتنا پڑے گا ہم اہلیانِ وارڈ نمبر 14محمد آباد کی غیور عوام یہ چلینج کرتے ہیں کہ کارپوریشن ہمارا اہم اور سنگین مسئلہ نالے اور گٹر کا حل نہیں کرسکتی تو محمدآباد کے رہنے والوں کو پانی پٹی اور گھر پٹی بھی تقسیم نا کریں اگر ٹیکس کی بل تقسیم کرنے والے کوئی بھی ادھیکاری محمد آباد میں نظر بھی آیا تو ہم پورے محمدآباد کے لوگ ان لوگوں کو مارکر ہکالے گے چاہے ڈپارٹمنٹ کے لوگوں کے ساتھ ہوں یا اور کوئی جب ہمارا مسئلہ حل نہیں اور ہمارا کام نہیں تو ہم کوئی بھی ٹیکس نہیں بھرینگے
اہلیانِ وارڈ نمبر 14کا لاورث علاقہ محمدآباد
ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق