اسلامی نیا سال مبارک ہو!ازقلم ؛ محمد عارف نوری(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں)



(پریس ریلیز) مختلف ممالک میں نئے سال کا استقبال بڑے جوش وخروش سے منایا جاتا ہے نئے سال کی آمد کے لیے نوجوان نسل کچھ زیادہ ہی پُرجوش نظر آتی ہے مسلم اور غیر مسلم اس تہوار کو بڑے جوش سے مناتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا کبھی غیر مسلم مسلمانوں کے تہوار یاد رکھتے ہیں؟ اور اتنے جوشوں خروش سے مناتے دیکھا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اپنی ”تہذیب“ اپنے ”تہوار“ بھول کر کسی اور قوم کی پیروی پر چل پڑے ہیں ایک حدیث کے الفاظ ہیں : ”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ کل قیامت کے دن انہیں میں شمار ہو گا۔ (ابوداؤد)
ہمارا نیا اسلامی سال محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے 
مسلمانوں کے لیے ہجری سال بہت اہمیت کا حامل ہے ہمارا نیا سال قربانیوں سے شروع ہوتا ہے نئے سال کے آغاز پر ہمیں بہت ہی سنجیدگی سے اپنی زندگی اور اپنے وقت کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم نے اس سال میں کیا کھویا کیا پایا اور کیا کیا اور کیا کرنا چاہیے تھا اس گزر جانے والے سال میں ہم نے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچایا ایسے کون سے کام ہیں جو میں گزر جانے والے سال میں نہیں کر سکا اور ایسے کون سے کام ہیں جو آنے والے سال میں مجھے کرنا چاہیے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی جان، مال، ایمان، عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے آمین یارب العالمین۔

ليست هناك تعليقات: