نئی تعلیمی پالیسی2020 کے اعلان کے ساتھ ہی موجود خامیوں کے خلاف کیرلا،تمل ناڈو ریاست میں اور اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ11138 نے عملی مخالفت کا آغاز کر دیا۔اس تعلیمی پالیسی میں جو لسانی فارمولے کو شامل کیا گیا ہے،اردو زبان کا نام مادری زبان کی فہرست میں شامل نہ ہونے سے کئی طرح کے سوالات کھڑے ہو گئے ہے، اس تعلیمی پالیسی کے ذریعے کہیں اردو زبان کو ختم کرنے کی کوشش تو نہیں ہے؟ اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ11138 کے بانی و جنرل سکریٹری ساجد نثار احمد نے کہا کہ تیسری،پانچویں، اور آٹھویں جماعت میں بار بار بورڈ امتحان لینا بھی صحیح نہیں ہے بورڈ امتحانات کا خوف بڑھے گا۔کلاسوں کو ملانے سے اسکولوں کا وجود متاثر ہو سکتا ہے۔ نئی پالیسی میں چھٹی جماعت کے طالب علم کو ووکیشنل ٹریننگ کے طور پر کارخانہ و گیرج میں تربیت کے کئے چھوٹ دی گئی جس سے ڈراپ آوٹ بڑھے گا ساجد نثار احمد کے مطابق فی الحال 10_ 2_3 کا طرز نافذ ہے جبکہ نئی پالیسی میں 5_3_3_4 یہ ہیٹرن لایا جا رہا ہے جس سے مہارآشٹر میں اسکولوں کا بڑا نقصان ہو گا ،نیز 2022 تک شکشن سیوک رد کرنے کی خبر آ رہی ہے۔2023 تک سالہیہ سنکل پیٹرن اپنایا گیا تو کیندر اسکولوں کا کیا ہو گا۔ جس سے اسکولوں کو بڑا نقصان ہو گا۔ اس ضمن میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ11138 نے نئی تعلیمی پالیسی میں موجود خامیوں کو اور دیگر اہم مطالبات کی منظوری کے لئے مرکزی حکومت کے محمکہ تعلیمات رابطہ قائم کرمسلسل نمائندگی کر رہی ہے نیز تحریری میمورنڈم پیش کیا گیا ہے۔ اس نئی پالیسی میں اردو زبان کی طرف اندیکھی سے سخت الفاظ میں تنظیم نے اسکی مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے اردو زبان کو مادری زبان میں شامل کیا جائے ورنہ اس فیصلے کے خلاف اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ ملک گیر سطح پر سخت احتجاج کا مظاہرہ کریگی،تنظیم کے بانی و سیکریٹری ساجد نثار احمد نے بتایا کہ جو نئی تعلیمی پالیسی مرکزی حکومت نے منظور کی ہے اس میں اردو زبان کو ترجیح دینا چاہیے اس ضمن میں حکومت کو اپنا موقف واضح کرنا جایئے ۔نیشنل ایجوکیشن پالیسی(NEP) نہ صرف غریبوں اور پچھڑوں سے تعلیم کا حق چھینے گی بلکہ تمام اداروں بشمول اقلیتی اداروں کے اختیارات سلب ہوں گے، نصاب و نظریہ کے اعتبار سے منوواد کی راہ ہموار کرنے کا طویل مدتی منصوبہ ہے، رفتہ رفتہ تمام سیکٹر حتی کہ اب تعلیم کو بھی پرائیوٹائز کیا جا رہا ۔ این ای پی کی اصل ضرب سماج کےان ورگوں پر پڑے گی جن کو رزرویشن ملا ہوا تھا، کیرلا اور تمل ناڈ(ساؤتھ کی ریاستوں) میں نئی تعلیمی پالیسی کے خلاف احتجاج بھی ہوئے ہیں۔ اس لئے اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے قومی صدر چودھری واصل علی، ریاستی صدر محبوب تامبولی، جنرل سکریٹری ساجد نثار احمد، خاتون صدر ناہید خاتون نے پالیسی میں موجود خامیوں کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں