شکیل ہوٹل والا ہی آخری پسند (چوائس)۔۔محلہ کے سرکردہ افراد پہ پڑا عوامی دباؤ

شکیل ہوٹل والا ہی آخری پسند (چوائس)محلہ کے سرکردہ افراد پہ بڑا عوامی دباؤ
محلہ حسن پورہ و دیگر علاقوں کے عام و حاض سرکردہ شخصیات نے بڑی تیزی سے عوامی رائے دینے شروع کر دی ہے کہ ہماری اولین ترجیح شکیل ہوٹل والا ہی ہونگے آخری چوائس وہیں خواتین وہ اطراف کے سرکردہ شخصیات کو اپنا فیصلہ سنایا کہ ہر مرتبہ کوئی نا کوئی کسی اور محلہ سے آتا ہے وعدوں کی خیرات اور سنہری وعدوں کے جال میں پھنسایا گیا- ابھی حالیہ گزارتے سالوں میں 4 کارپوریٹروں میں سے کسی ایک کا ہم نے چہرہ تک نہیں دیکھا کوئی شہر کے ایک کنارے پہ رہتا ہے تو دوسرا تیسرے کنارے پہ رہتا ہے ہم اپنی عوامی اور رہائشی مسئلے کو کس کے سامنے رکھیں محلہ میں ہر طرف روز بروز بڑھتی تکلیفیں کس کو بیان کرنے جائیں کہ نہ کوئی کاندھا ہے کہ جس پہ سر رکھ کر اپنے مسائل بیان کئے جائیں ایسے ماحول اور رہائشی علاقوں میں اب ہر طرف مرد و خواتین کافی غصہ میں ہیں یہی وجہ ہے کہ محلہ حسن پورہ، اعظم پورہ، زیتون پورہ، رحمن پورہ ،60 فٹی روڈ گلشن عارفیہ، آس پاس کے دھندہ بیوپار کرنے والے مختلف اداروں کے اہلکاروں و ذمہ  داران، پہ خواتین و عام لوگوں نے بڑھایا دباؤ کہ آنے والے حالیہ (مولانا ابوالکلام آزاد بھون) مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن الیکشن میں ہماری آخری پسند (چوائس)صرف اور صرف جناب شکیل ہوٹل والا ہی ہونگے  عنقریب جلد ہی علاقے کے سرکردہ شخصیات و ادارے کے سربراہ و ذمہ دار افراد کو لے کر ایک پریسر گروپ کی تشکیل ہوگی جس کے ذریعے عوامی خدمت گار شوشل کاموں میں بغیر کسی لالچ و ذاتی مفادات کو نہیں دیکھنے والے شخص محترم عالیجناب شکیل ہوٹل والے صاحب کے کاندھے پہ یہ ذمہ داری رکھی جائے گی کہ آپ ہاں کریں باقی کام ہم  بغیر کسی پیشے یا مانگ کے ہم کرے گے تاکہ کم از کم آس پاس کے علاقوں کے بڑھتے روزانہ کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور ایک صاف ستھرا معاشرہ تشکیل دیا جائے - اس سلسلے میں محلہ کے سرکردہ نوجوان شخصیت میں سلطان بادشاہ، ابراہیم مختار انقلابی، شبیر احمد عرف بیرے، رئیس رنگیلا، اطہر الیکٹرانک، ندیم احمد فریڈم، حسن ماما، رضوان انجانا، شفیق چاول، علیم عرف الاؤ سیٹھ، عبدالرشید مستری، سفیان کرانہ والے، تنویر سیٹھ دادا دوکان والے، لئیق چاول، اخلاق کرانہ (ذمہ داران مرتضیٰ مسجد ٹرسٹی کے سرکردہ افراد) جاوید سموسے والے، سعود چکی والے، رمضان ڈابلی والا، عمران برف والا، آس پاس علاقے کے ڈاکٹر حضرات، جمیل موتی، شفیق موتی فیملی، کلو اسٹیڈیم کرکٹ ٹیم کے کپتان و کھلاڑیوں نے بھی اپنے تعاون کا یقین دلایا اور ہر مقام پہ ساتھ رہنے کا وعدہ کیا کہ اب اس بڑھتے عوامی مسائل کا حل ایک عوامی سلجھے شخص جناب شکیل ہوٹل والے صاحب کے مضبوط کاندھے پہ رکھا جائے جس سے کم از کم مسائل تو حل ہوگئے ورنہ کون ہر بار کی طرح کسی کارپوریٹر کو چراغ لے کر ڈھونڈے جائے ان سرکردہ شخصیات پہ علاقے کی نوجوان بزرگ و ایک بڑی تعداد خواتین نے اپنا فیصلہ رکھا ہے
دیکھی نہ گئی مجھ سے اندھیروں کی سرکشی 
پھر آفتاب بن کے، نکلنا پڑا مجھے
    والسلام عوامی رائے 

کوئی تبصرے نہیں: