ساتھی نہال احمد
کھلا کھلا سا ہے دفتر تمہاری یادوں کا ۔ پہلی قسط
اقبال احمد انصاری
١٩٢٧ یہ وہ دور تھا جب ہمارے ملک ہندوستان میں چاروں طرف تحریک آزادی کی لہر شدت اختیار کر چکی تھی
اُس کے ساتھ ہی اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو گیا تھا بڑی تعداد میں ادیب شاعر اور دانشور اس تحریک سے متاثر ہوتےگئے مہاتما گاندھی نے بھی انگریزوں سے مکمل آزادی کیلئے اپنی لڑائی تیزکردی انگريزوں بھارت چھوڑو کانعرہ دیا اس کے ساتھ ہی اردو کا یہ نعرہ ، انقلاب زندہ باد ، اس نعرے سے عوام کے اندر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کیلئے ایک جوش پیدا ہوگیا یہ بڑا ہی پرآشوب زمانہ تھااس وقت ناسک ضلع کے مالیگاؤں شہر کا شمار کم آبادی کے شہروں میں ہوتا تھا ٢٢ مئی ١٩٢٧ کواسی مالیگاؤں شہرکے علاقے نیاپورہ کے ایک علِمی و مذہبی گھرانے میں ساتھی نہال احمد صاحب پیدا ہوئے
ساتھی نہال احمدصاحب کے والد کا نام مولوی محمد عثمان تھا مولوی محمد عثّمان اَپنے وقت کے عظیم عالم دِین صحافی داَنشور قوم پرست ملیّ رہنما تھے اور ہندوستان کی سب سے بڑی قوم پرست تنظیم جمعیتہ العلماء کے صدر اور بر صغیر ایشیاء کی عظیم و قدیم درسگاہ جامعتہ الصاحات و معہد ملت کے بانی بھی تھے
نہال احمد صاحب نے ابتدائی تعلیم مالیگاؤں کی میونسپل اِینگلو اُردو اسکول میں لیتے رہے جو آج ATT ہائی اسکول کے نام سے مشہور ہے
دورانِ تعلیم گیارہ سال کی عمُر میں حیدرآباد اِسٹیٹ کےنظام آباد شہر میں اپنے والدین کے ساتھ سکونت اَختیار کی وہاں کی جامع مسجد کے مدرسہ فوقاَنیہ میں ٥ سال تک اردو عربی فارسی کی تعَلیم حاصل کی مدرسے میں ان کی تعلیم قدوری تک ہو چکی تھی عربی میں اتنی مہارَت حاصل ہوئی کہ پیراگراف کا اردو ترجمہ بھی کرلیا کرتے تھے
١٩٤٣ میں مولوی محمد عثمان صاحب نے نظام آباد کی سرکاری ملازمت احتجاجاً ترک کی اور واپس مالیگاؤں آگئےنہال احمد صاحب شہر واپس آنے کے بعد روزگار سے منسلک ہوگئے اور پاورلوم پر مزدوری کرنے لگے اُسی کے ساتھ آپ خالی وقتوں میں کرانہ دوکان پر بیٹھا کرتے تھے کرانہ دوکان پر ہی ممبئی سے آنے والا اخبار " خلافت " اَلھلال " اور دوسرے اخبارات کامطالعہ کرتے رہنا ان کی عادت اور شوق بن گیا رام منوہر لوہیا کے نظریاَت سے متاثر ہوکر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور ہارون احمد انصاری صاَحب کے شانہ بہ شانہ چلنے لگے یہ ١٩٤٧ کے ہنگاموں کا زمانہ تھا
بقیہ اگلی قسط میں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں