نڈر و بیباک رہنما ساتھی نہال احمد مولوی محمد عثمان صاحب

نڈر و بیباک رہنما

     ساتھی نہال احمد مولوی محمد عثمان صاحب

 ✍🏻 اقبال احمد انصاری قلعہ
7666536761
پیدائش 22 مئی 1927 وفات 29 فروری 2016

 نہال احمد صاحب کی سیاسی زندگی پر ، SMجوشی ، ناناصاحب گورے ، ـدھو دنڈوتے  ، مرنال گورے  ، جارج فرنانڈیز  ،، چندر شیکھر جیسے لوگوں کا اثر رہا آج ہم دیکھتے ہیں کہ سیاست میں  مطلب پرستی خودغرضی اور اناپرستی  نے جگہ لے لی ہے ایک معمولی  کارپوریٹر کے پاس بھی15 سے 20 لاکھ روپیہ کی ایئرکنڈیشنڈ گاڑی سفید اور قیمتی کپڑوں کے انبار ہوتے ہیں مگر میونسپلٹی و کارپوریشن کی سیاست میں بھی ساتھی نہال احمد صاحب سائیکل پر چلتے رہے وہ اکثر پیدل ہی جھوپڑپٹیوں میں جاتے نہال احمدصاحب کھادی کے کپڑے پہنتے وہ قناعت پسند تھے اس لئےان کی ضرورتیں بہت کم تھیں    

 جب کبھی مالیگاؤں شہر میں کوئی ، سیاسی یا سماجی ، جلسہ ہوتا اور ساتھی نہال احمد صاحب کو اس میں  مدعو کیاجاتا تو عوام صاحب کیلئے منتظر رہتی جیسے ہی نہال احمد صاحب آتے ایک شور اٹھتا صاحب آگئےصاحب آگئے نہال احمد صاحب اسکوٹر کی پچھلی نشست سے نیچے اترتےاُس زمانے میں موبائیل نہیں تھا اِس لئے پیغام لانے اور لے جانے والے پر ہی سب منحصر ہوتا ،، کھادی کے کپڑے ، سادی سی چپل ، لوگوں کے سلام کا جواب دیتے ہوئے ، تھکے ہونے کے باجود چہرے پر ،کھلی کھلی  مسکراہٹ ، ہر ورکر کا نام یاد  ،کسی کو تھپکی دیتے ہوئے ، کسی کو پیار سے دانٹتے ہوئے ، تو کسی کو پیار سے سمجھاتے ہوئے صاحب اسٹیج پر براجمان ہوتے ، عام فہیم زبان ،  لوگوں کے مسائل پر گہری نظر ، اس کے حل کی دلی خواہش اور تڑپ ،  گھریلو الفاظ ، مخالفین پر چند جملوں میں کیا ہوا طنز ،  جس پر جلسہ گاہ میں بیٹھے ہوئے لوگوں  کی بے ساختہ ہنسی ،  سیاسی مخالفین کی چوریوں ، بدعنوانیوں  ، اور مکاریوں پر ہلہ بول تقریر کے موضوع ہوتے تقریر ختم کرنے کے بعد نہال صاحب اسٹیج سے نیچے اترتے ورکروں اور عام لوگوں سے ملاقات کرتے ہوئے شہری حالات پر گفتگو کرتے اور اسکوٹر پر سوار ہوکر یا کبھی پیدل ہی اپنے گھر کی جانب راونہ ہوجاتے ۔

ساتھی نہال احمد صاحب  ہمیشہ عوام کے بیچ رہےکر عام آدمی کے لئے لڑتے رہے عام ورکر کے ساتھ کھڑے رہنا غریب آدمی کے آنگن میں بیٹھ کر چائے پینا یہ ان کی وہ آدتیں تھی جنھیں بھلانا ناممکن ہے۔ساتھی نہال احمد  صاحب کی یہی خوبياں  انہیں دیگر لیڈروں سے ممتاز کرتی تھیں   ۔
وہ جب وزیر بنے تو جن لوگوں کے کام ممبئی منترالیہ میں ہوتے تھے جس منسٹر کی آفس کا کام ہوتا اسے اس آفس کے سامنے کھڑا کرتے اور کام کی شروعات کرتے لوگوں کے کام کرتےہوئے اپنے رسوخ کا استعمال کرنااندازبیاں کیسا ہو یہ بھی انہیں بہت اچھی طرح سمجھتا تھا اور یہی ان کے کام کرنے کا طریقہ بھی تھا   ۔
ساتھی نہال احمد  صاحب کے دل میں لوگوں کے کام کرنے کی تڑپ تھی انہوں نے پوری زندگی شوشسلسٹ نظریات اور اصولوں کی ایسی پابندی کی کہ اصولوں کے سامنے کئی بار انہوں نے، MLC  ، وزارت  ، اور گورنر جیسے عہدوں کو بھی ٹھکرادیا   ۔
مالیگاؤں شہرمیں سیاسی کام کاج کرتے ہوئے ان پر یہ الزام بھی لگا کہ شہر کو جس طرح ترقی کرنی چاہیے تھی نہیں کی  لیکن جس طرح سے ساتھی نہال احمد صاحب نے اس شہر کو بسایا ،، غریبوں کو آسرادیا ،جھوپڑپٹی بسائیت سبھا کے زریعے گھر کی چاردیواری بنانے میں مدد کی ، روزی روزگار کے وسائل اکھٹاکرنے میں ، تعلیمی ، سیاسی ، سماجی ، اورعملی ، مدد کی وہ اظہرمن الشمسّ ہے  ۔

کوئی تبصرے نہیں: