اساتذہ کرام کے اعزاز میں سویس ہائی اسکول کے سابق طلباء کا پروگرام کامیابی سے ہمکنار
معلّم کہنے کو تو سادہ اور آسان سا لفظ ہے مگر یہ لفظ اپنے اندر سمندر کی گہرائی سموئے ہوئے ہے۔ معلم یا ٹیچر علم و اخلاقیات کی ترویج و ترسیل کا فریضہ انجام دیتے ہیں چاہے وہ دنیاوی علم ہو یا دینی، معلم کو سماج و معاشرے کا معمار کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بچپن سے لیکر جوانی تک پہنچنے والے ہر فرد کی تربیت و تزکیہ کرتا ہے اچھے اور برے کی تمیز سِکھاتا ہے۔ حدیث شریف میں بھی یہ بات ملتی ہے کہ خاتم الانبیاء ، اشرف الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم بنا کر دنیا میں بھیجا گیا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بے سر و سامانی اور مشکل حالات میں سخت جانفشانی ، جہد مسلسل اور اخلاقی تربیت کے بعد صحابہ کرام ؓ کی جماعت تیار فرمائی۔ حضورؐ کی تربیت یافتہ اسی جماعت نے اپنے حسن اخلاق ، قربانی ، دیانت داری اور جرآت مندی سے تاریخ میں انمٹ نقائش ثبت کئے ہیں۔ اسی جماعت نے قیصر و کسری کے غرور کو چکنا چور کیا اور دنیا پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ، مساوات اور انصاف کے پرچم کو بلند کیا۔ ایسا اس لئے ہوا کہ صحابہ کرام کے استادِ مبارک جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
آج پوری دنیا میں استاد کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر فی زمانہ ہمارے معاشرے سے اساتذہ کی عزت و الفت کا عملی جوش و جذبہ معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ طلباء اپنے اساتذہ کی بے ادبی کرتے ہیں اور ان کا مذاق بناتے ہیں جوکہ ایک افسوسناک پہلو اور معاشرے کیلئے خطرناک ہے۔اساتذہ کرام کی عزت افزائی کے مقصد سے سویس ہائی اسکول گروپ سن 2000ء بیچ (Batch ) کے سابق طلباء نے ایک پروگرام کا انعقاد سویس ہائی اسکول میں کیا۔ حافظ اعجاز صاحب نے تلاوت قرآن مجید سے پروگرام کی شروعات کی اور محترم جاوید سر کی نظامت میں پروگرام شروع ہوا ۔ تحریک و تائیدِ صدارت عبدالاحد نے پیش کی اور اسکول کے صدر مدرس محترم رفیق انصاری سر کو صدر مجلس منتخب کیا گیا ۔صدر موصوف نے پروگرام کو چلانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ گروپ کے فعال رکن حافظ ریحان نے پروگرام کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے گروپ کی جانب سے کئے جانے والے فلاحی کاموں کا تذکرہ کیا اور اسکول کی ہر ممکن خدمت کیلئے تیار رہنے کا اظہار بھی کیا۔ اس کے بعد طلباء کی جانب سے یکے بعد دیگرے اسکول کے تمام اساتذہ کرام کی خدمت میں شال، پھول ،قلم اور مسواک دے کر اُن کا استقبال کیا ناظمِ مجلس محترم جاوید سر نے تمام اساتذہ کا تعارف کروایا اسی طرح تمام طلباء نے بھی اپنا تعارف پیش کیا ۔ طلباء کی جانب سے محمد نعیم نے اپنے تاثرات پیش کئے اور اساتذہ کرام کی خدمات و محنت پر تشکر کا اظہار کیا اس کے بعد محترم نفیس سر نے پروگرام کے انعقاد پر طلباء کا شکریہ ادا کیا اور طلباء کو نصیحتوں سے نوازا ۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور پروگرام کے صدر محترم رفیق انصاری سر نے اپنے صدارتی خطبہ میں اس منفرد پروگرام کے انعقاد کرنے پرگروپ کا شکریہ ادا کیا کہ طلباء نے ہمیں یاد رکھا اور فلاحی خدمات کی سراہنا کرتے ہوئے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور دعائیں دیں۔اس کے بعد کامیاب پروگرام کیلئے عملی جدوجہد کرنے پر حافظ ریحان، ندیم، عبدالاحد، عبدالباسط اور معین اختر کو اساتذہ کرام نے پھولوں کا نذرانہ پیش کیا آخر میں گروپ کے رکن حافظ و عالم عابد احمد نے شکریہ کی رسم ادا کرکے دعا کی اور پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔
*پروگرام میں گروپ کی جانب سے پرتکلف ضیافت کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ اس تحریر کو لکھنے کا مقصد دوسروں یعنی آجکے طلبا کو ترغیب دینا ہے تاکہ وہ بھی اپنے اساتذہ کرام کو عزت بخشیں ، اپنے اساتذہ کے احسانوں کو یاد رکھیں اور ان کے لئے دعائے خیر کریں۔*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں