‎مالیگاؤں ادبی کنبے نے اردو کے عظیم نقاد شمس الرحمن فاروقی کی رحلت پر تعزیتی نشست کا انعقاد کیا۔ ‏

"کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط کرکے شمس الرحمن فاروقی مرحوم کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کیا جاسکتا ہے۔ " (ڈاکٹر الیاس صدیقی)

مالیگاؤں: شہر کے ادبی مرکز اسکس لائبریری ہال میں اہل علم کی تعزیتی محفل میں 27 دسمبر کی سرد رات میں شہرہ آفاق نقاد، محقق، دانشور اور شاعر شمس الرحمن فاروقی کی یادوں کی الاؤ جلائی گئی. اردو کے معروف اسکالر سلیم شہزاد کی صدارت میں منعقدہ اس تعزیتی نشست میں فاروقی مرحوم کی علمی و ادبی خدمات کا دیر تک ذکر ہوتا رہا۔  صدر جلسہ نے اپنے خطاب میں فاروقی صاحب سے ملاقاتوں اور خط وکتابت کے حوالوں سے یہ بتانے کی کوشش کی کہ باصلاحیت اہل قلم کی وہ کتنی قدر کرتے تھے اور اختلافِ رائے کے باوجود مخالف کا کس قدر احترام کرتے تھے۔ ڈاکٹر الیاس وسیم صدیقی نے فاروقی صاحب کی عالمانہ شخصیت پر سیر حاصل گفتگو کی اور ہال میں موجود سامعین سے درخواست کی کہ فاروقی مرحوم کو حقیقی خراج عقیدت کتابوں سے اپنا رشتہ جوڑ کرہی ہم ادا کر سکتے ہیں ۔ مولانا عمرین رحمانی نے ان کی رحلت کو اردو زبان و ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا. ڈاکٹر سعید فارانی نے جہاں فاروقی صاحب کے ناول "کئی چاند تھے سرِ آسمان" کے دسیوں بار مطالعہ کا ذکر کیا وہیں جشنِ ریختہ دلّی میں فاروقی صاحب سے بالمشافہ ملاقات کو خود کیلئے آنے والی نسلوں کے ذریعے فخر کیے جانے والا سرمایہ بتایا. اثر صدیقی نے اپنی مختصر تقریر میں ان کی ادبی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے حق میں دعائیہ کلمات ادا کیے. فرنود رومی نے شروع میں  فاروقی مرحوم کے فن اور شخصیت پر ایک مضمون پڑھا. پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے عثمان غنی اسکس نے کہا کہ فاروقی صاحب کی کتابیں اسکس لائبریری میں برسوں سے منتظر ہیں کہ کوئی انہیں ایشو کروائے. چنانچہ نوجوان ان کی کتابوں سے جو کہ ایک عہد کی ترجمان ہیں، استفادہ کریں۔ 
نشست میں بزرگ صحافی لطیف جعفری، عبدالمجید صدیقی، الطاف ضیاء، ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر، شکیل جمیل حسن، ڈاکٹر پرویز فیضی، وکیل پرویز، محی الدین، اقبال برکی، ڈاکٹر آصف فیضی، ڈاکٹر اسامہ (ابن آدم)شب انصاری، ڈاکٹر شہروز خاور، عبدالمجیدماسٹر، ڈاکٹر شفیق، طاہر انجم صدیقی، اظہر مرزا، ارشد ہمدانی سمیت بڑی تعداد میں شہر کے صحافی اور اساتذہ شریک ہوئیں۔
مشتاق احمد مشتاق، افضال انصاری، عمران جمیل اور امتیاز خلیل نے اس نشست کی ترتیب و انعقاد میں حصہ لیتے ہوئے شہر کی ادبی انجمنوں کی جانب سے فرضِ کفایہ ادا کرنے کی کوشش کی.

کوئی تبصرے نہیں: