محمود پراچہ کے دفتر پر پولیس کی بزدلانہ چھاپہ مار کاروائی کے خلاف مالیگاؤں میں ناراضگی ‏

محمود پراچہ کے دفتر پر پولیس کی بزدلانہ چھاپہ مار کاروائی کے خلاف مالیگاؤں میں ناراضگی 
مسلم راشٹریہ مورچہ, سنی جمیعت الاسلام, ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن نے اسے غیر آئینی قرار دیا 
مالیگاؤں (خیال اثر) گزشتہ دنوں معروف وکیل محمود پراچہ کے دفتر پر ای ڈی کے ذریعے کی گئی چھاپہ مار کاروائی کے خلاف ملک کے سنجیدہ ترین افراد  اسے غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے مذمت کرنے کے لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں. بتایا جاتا ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت میں شہروں شہروں جو احتجاج اٹھ کھڑا ہوا تھا اس احتجاج کی نمائندگی کرنے والے نمائندہ افراد کے خلاف بھاجپا سرکار نے مقدمہ درج کرتے ان کے خلاف سخت کاروائی کا عندیہ ظاہر کیا تھا. شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف جب احتجاج کا رنگ جنگ میں تبدیل ہو کر خوں ریز فسادات کی شکل میں رونما ہوا تو اس کالے قانون کے خلاف احتجاج کی زمام اقتدار سنبھالنے والے تمام ذمہ داران کے خلاف فساد برپا کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے انھیں فسادات کا مجرم گردان لیا گیا تھا. اس طرح بھاجپائی حکومت نے جب ان ملزمین کا مقدمہ عدالت عالیہ میں پیش کیا تو ان مقدموں کی پیروی کرنے والے معروف وکیل محمود پراچہ کے گرد بھاجپائی حکومت نے اپنا گھیرا تنگ کرتے ہوئے ان پر نشانہ سادھ لیا. گذشتہ دنوں ان مقدموں کی پیروی سے باز رکھنے کے لئے ہندوستان کے مطلق العنان حکمرانوں کی ایماء پر ای ڈی نے محمود پراچہ کے دفتر پر ضبطی کی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے انھیں ہراساں کرنے کی کوشش کی. ای ڈی کے ذریعے کی گئی اس چھاپہ مار کاروائی کے خلاف حساس دل افراد نے اپنے دلی جذبات کا اظہار شروع کردیا ہے. 
مالیگاؤں شہر کے راشڑیہ مسلم مورچہ کے شہری صدر سیٹھ اکبر اشرفی نے پراچہ کی حمایت میں منعقدہ ایک میٹنگ میں کہا کہ بھاجپا سرکار اقتدار کے نشے چور ہو کر یکے بعد دیگرے کالے قوانین کا نفاذ کرتی جارہی ہے اور ایسے قوانین کے لامتناہی سلسلے کو روکنے کے لئے جو بھی شخص میدان میں آتا ہے اسے زبردستی ہراساں کرنے کی کوشش جاتی ہے جس کی تازہ مثال محمود پراچہ ہیں. یہ کاروائی حکومت کا ظالمانہ فیصلہ ہے جس کی راشٹریہ مسلم مورچہ پر زور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے غیر آئینی افعال کو انجام دینے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ اقتدار ہمیشہ کسی کے حصے میں نہیں رہتا .اسی طرح سنی جمیعت الاسلام کے مقامی صدر اور جانشین صوفی ملت صوفی نور العین صابری نے کہا کہ "ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے "کے مصداق دنیا سے بڑے بڑے ظالموں کا نام و نشان مٹ کر رہ گیا ہے. آج جو اقتدار کا لبادہ اوڑھے ظلم کی انتہاؤں تک پہنچ گئے ہیں کل وہی مظلومین کی صف میں کھڑے نظر آئیں گے. آج محمود پراچہ جیسے مشہور وکیل کو خوف زدہ کرنے کے لئے ای ڈی نے  جو غیر قانونی کاروائی انجام دی ہے وہ کاروائی نہیں بلکہ "وہ وکیل اور موکل کے حقوق پر ڈاکہ زنی کے مترادف ہے". ہیومن رائٹس کے صدر ابو للیث انصاری نے محمود پراچہ کے خلاف ای ڈی کی مذکورہ کاروائی کو ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے اسے غیر منصفانہ عمل سے تعبیر کیا ہے. محمود پراچہ کے دفتر سے ان کا  لیپ ٹاپ, کمپیوٹر اور دیگر دستاویزات کی ضبطی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ تانا شاہ سرکار اقلیتوں کے حقوق میں دخل اندازی کرنے کی مذموم کوشش کررہی ہے. وکیل و موکل کے درمیان راز و نیاز کی ساری باتیں حکومت ای ڈی کے ذریعے منظر عام پر لانا چاہتی ہے  جو غیر آئینی عمل ہے.

کوئی تبصرے نہیں: