جس سال نے ہر گھر سے ایک فرد کو چھین کر سب کو رولا دیا اس کے جانے اور نئے سال کی آمد کا جشن میں کیوں مناؤں



محمدرضا مرکزی
8446974711
  سنی دارالافتاء سنی مکہ مسجد مرزاغالب روڈ مالیگاؤں 
   سن 2020 کے جانے پر کس بات کی خوشی.....اس سال نے لاکھوں انسانوں کو موت کے منہ میں ڈال دیا.... ہنستے کھیلتے...مسکراتے گھروں کو ویران کردیا... ہزاروں علماء کو اس سال نے ہم سے چھین لیا... قیامت کے قرب کی گھنٹی بجا دی..... اور ہم شراب وشباب میں ڈوبنے کی تیاری کررہے ہیں.... مسلم بچیاں نقاب میں چھپ کر غیر مسلموں کے ساتھ ہوٹل میں شب باشی کے پلان کر رہی ہیں.....
   پھر بھی ہم 31دسمبر کی رات جشن منائیں گے؟؟؟؟
نہیں میرے بھائیوں!!! ! یہ رات گزرے سال میں کئے گئے گناہوں کی معافی اور آنے والے سال کی خیریت خدا سے طلب کرنے کی رات ہے.......

بہت رولا گیا ہے ہمیں یہ دوہزار بیس

   اللہ تعالی کے فضل وکرم سے سال 2020 کا اختتام ھے ۔ اور سال 2021 کی آمد آمد ھے ۔  اس کے آخری لمحات کو اللہ کی یاد میں گذار کر قیمتی بنالیں ۔ناں یہ کہ اس سال کے جاتے جاتے ہم اللہ کو ناراض کر بیٹھیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ھے اعمال کا دارومدار خاتمے پر ھے ۔اسلئے سال کے اختتام کو اچھا بنائیں ۔ 
سال کے اختتام کو یاد گار بنانے کیلئے  پوری دنیا میں اھل کفر کی طرف سے بھر پور گناہوں کا مظاہرہ کیا جاتاھے ۔ جس کو دیکھا دیکھی ھمارے مسلمان بھائی بھی ان گناھوں میں ڈوبے نظر آتے ھیں ۔چند گناھوں کو قارئین کی نظر کرتاھوں اور یہ چند گناہ ایسے ھیں کہ سینکڑوں چھوٹے گناہوں کا مجموعہ ھیں۔ 
31دسمبر کی رات کو ملک کے  بیشتر چھوٹے بڑے شھروں میں شراب پارٹیوں کا انعقاد کیا جاتاھے....
 شراب کو اللہ تعالی نے اور اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل طور پر مسلمانوں کیلئے حرام کی ھے ۔ جس چیز کو اللہ اور اسکے رسول حرام کردیں ۔ وہ ہمارے لئے کیسے حلال ہوسکتی ہیں ؟
شراب پینے پلانے اور خریدنے والے اور بیچنے والے سب پر اللہ اور اسکے رسول نے لعنت فرمائ ھے ۔
شراب کا پینا کئ گناھوں کا مجموعہ ہوتاھے ۔مثال کے طور پر شراب پینے کے بعد انسان.. انسان نھیں رھتا بلکہ جانوروں سے بھی بدتر نظر آتاھے ۔ زنا کا ارتکاب ۔ قتل کا ارتکاب  اور بازاروں میں دنگا فساد ۔یھاں تک واقعات ہوئے کہ لوگوں نے شراب کے نشے میں مست ہوکر اپنی ماں بھن بیٹی کو قتل کردیا ۔ شراب پینے کے بعد انسان کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شراب کی حرمت سے قبل ایک صحابی نے شراب کے نشے میں مست ھوکر اپنی اونٹنیاں زخمی کردیں مار کر۔ اسکی شکایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کی گئ آپ نے چل کر خود اس واقعے کو دیکھا تو فرمایا کہ ان کا مالک نشے میں مست ھے ۔  اسکو ھوش میں آنے دو اور اس طرح کے سینکڑوں واقعات ھیں جن سے پتہ چلتاھے کہ شراب کی نحوست اور برائی انسان کو درندہ اور وحشی بنا دیتی ہے.. ۔۔
 اور 31دسمبر کی رات کو ڈانس پارٹیوں کا انعقاد کیا جاتاھے جس میں نیم برھنہ عورتوں کا ڈانس ہوتاھے ۔ یہ محفل بھی کئ گناہوں کا مجموعہ ھوتی ھے.... 
بے پردگی ناچ گانا اور فضول خرچی اور وقت کا ضیاع یہ سب اس ڈانس پارٹی کی مرہون منت ھیں ۔ ناچ گانا بے پردگی یہ سارے وہ گناہ ھیں جس میں مسلمان 31دسمبر کی رات کو مبتلاء نظر آتے ہیں.. اتنا کچھ ہوجانے کے بعد سب سے آخر میں زنا کا ارتکاب ھوتاھے ۔ زنا بھت بڑا گناہ ھے ۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زنا ایک قرض ھے آج کسی کی ماں بھن بیٹی کے ساتھ کرو گے تو تمہاری ماں بھن بیٹی سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا۔ ان تمام گناہوں کی تفصیلات کیلئے بھت زیادہ وقت چاہئے اور بھت زیادہ صفحات کی ضرورت ھے ۔۔ 
 یاد رکھیں مسلمانوں کے سال کی ابتداء محرم الحرام سے ہوتی ھے اور ذی الحجہ پر سال کی انتہاء ھے ۔ 
مگر محرم کی آمد پر بھت کم لوگ ایسے ھیں جو دوسروں کو مبارک دیتے نظر آتے وہ بھی سوشل میڈیا کی حد تک ۔
غیروں کی دیکھا دیکھی ھم بھی نیو ایئر پارٹیاں منعقد کر کے یہ پیغام دے رھے کہ ہمیں اسلامی تہذیب سے پیار نھیں ۔۔
اسلام ایک پیارا مذھب ھے اور اسلام نے خوشی اور غم کا وقت بھی بتایا ھے ۔ 
سال کی ابتداء اور سال کی انتہاء یہ خوشی کا وقت نھیں بلکہ یہ تو افسوس کا وقت ھے کہ دیوار حیات سے ایک اینٹ اور گرگئ ھے
میری زندگی کا ایک سال کم ھوگیا ۔ اسلئے ان گذرتے سال اور گذرتے لمحات میں خوش ھونے کی ضرورت نھیں بلکہ افسوس کرنے کی ضرورت ھے کہ اتنے سال زندگی گذار دئے مگر کچھ حاصل نہ کرسکا۔۔۔۔۔
رنج و غم کا سال 2020
رنج و اَلم کا سال رہا دو ہزار بیس
صَدموں کا اک نشان بنا دو ہزار بیس
اَفسُردہ آسمان ، سِسَکتی ہوئ زمین
اک آتشِ وبا و بَلا ، دو ہزار بیس
یادوں کا درد اوڑھ کے بیٹھے ہوئے ہیں ہم
کتنے عزیز لے کے گیا دو ہزار بیس 
علمی فلک کے سیکڑوں خورشید چُھپ گیے
دے کر گیا ہے آہ و بُکا دو ہزار بیس
ساتھی کئ بچھڑ گیے راہِ حیات میں
پہنا گیا حجابِ قضا دوہزار بیس
باطل نے اہل حق پہ بڑھائے ستم کے وار
سازش کا ایک جال رہا دو ہزار بیس
جن پر ہمیشہ روئے گی باغِ جہاں کی آنکھ
ایسے گلوں کو لیکے اٹھا دوہزار بیس
بیچین و مضطرب ہے گلستانِ زندگی
کر کے چلا ہے حشر بپا دوہزار بیس
موضوعِ گفتگو رہے اموات و حادثات
جیسے ہو اک دیارِ عَزا دوہزار بیس
اُن سارے حق پرستوں پہ فضل خدا رہے
جن کو بھی ساتھ لے کے گیا دو ہزار بیس
یارب سبھی کے نور کا نعمُ البَدَل ملے
جتنے دییے بجھا کے چلا دوہزار بیس
دیتے ہیں یہ حوادث و آفات بھی سبق
ہے اک نقیب صبر و رضا دو ہزار بیس
اللہ پر یقین ، سبھی مشکلوں کا حل
ہم کو یہ درس دے کے گیا دوہزار بیس
چشمِ جہاں سے پوچھا کہ ہے غم کا سال کون
گر کر یہ آنسوؤں نے کہا ، دوہزار بیس
جب جب چلے گی زندگئِ سوختہ کی بات 
یاد آئے گا فریدی سدا دوہزار بیس

کوئی تبصرے نہیں: