*فورأ سے پیشتر اس کالے قانون کو منسوخ کیا جائے ورنہ
مالیگاؤں (پریس ریلیز) حالیہ دنوں میں ہندوستانی کسان اپنے زبردست احتجاج اور آندولن کےذریعے ہندوستانی حکومت کا ناطقہ بند کر رکھا ہے. دیکھا جائے تو ہندوستان میں صرف دو ہی طبقہ ایسا ہے جو ہندوستان کے لئے اپنے لائحہ عمل سے دیش کی بقاء و تحفظ اور کفالت کا حصہ دار ہے. ایک فوج جو دشمنان ملک سے دیشں کو محفوظ رکھتی ہے تو دوسرا کسان طبقہ ہے جو ہر موسم کی سختی جھیلتا ہوا اناج و غلہ کے زریعے ہر ہندوستانی کے لئے اغذیہ کی فراہمی کا سبب بنتا ہے. آج کے نامساعد حالات میں چین کی مسلسل دراندی اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی شر انگیزیوں نے ہندوستان کو تنگ کر رکھا ہے.ایسے نامساعد حالات میں کسان مخالف وضح کردہ زرعی قوانین نے کسان طبقہ کو یکجا کرکے اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے مشتعل کر کررکھا ہے. آج کسان طبقہ مختلف علاقوں سے پا پیادہ سفر کرتے ہوئے راجدھانی دہلی کو گھیر رکھا ہے. ان کسانوں کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ حکومت اس کالے قانون کو فورأ سے پیشتر منسوخ کرے ورنہ آنے والے دنوں میں یہی کسان اپنے کھیتوں میں بھوک کی کاشت کاری کرتے ہوئے افلاس کاٹیں گے. *مالیگاؤں سنی جمیعت الاسلام کے صدر,ریاستی ترجمان آل انڈیا علماء بورڈ کے جانشین صوفی ملت صوفی نورالعین صابری نے بھی کسانوں کے برہم مورچے کوتقویت پہنچانے کے لئے اپنا عندیہ ظاہر کیا ہے نیز وہ آگے بڑھ کر ان کسانوں کا استقبال کرنے کا بھی اعلان کیا ہے.*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں