مالیگاؤں( نامہ نگار) :سخت لاک ڈاؤن میں کرونا-19 کی مختلف ڈیوٹیاں مالیگاؤں کارپوریشن کے اساتذہ کرام کو دی گیں تھی۔ جس کو محنت کے ساتھ انتہائی بیباکی سے اساتذہ کرام نے انجام دیے۔ مگر کچھ غلط فہمی کی وجہ سے، اور تقریباً 50 اساتذہ نے اپنے اپنے ہیلتھ سینٹر جا کر ڈیوٹی انجام نہیں دی ایسا بے بنیاد الزامات عائد کر کارپوریشن کے آفیسران کی جانب سے 50 اساتذہ کی ماہ مئی 2020 کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔جس سے متعلقہ اساتذہ کام کر کے بھی تنخواہ نا ملنے سے سخت نالاں ہیں۔اساتذہ کے ساتھ نا انصافی دور کرتے ہوئے ان کو ماہ مئی کی رکی تنخواہ ادا کی جائے اس کے لئے اساتذہ کا بیباک ترجمان اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 گذشتہ 5 مہینوں سے مسلسل کارپوریشن کمشنر ترمبک دیپک کاسار، ڈپٹی کمشنر نتن کاپڑنس،کارپوریشن ہیلتھ آفیسر سپنا ٹھاکرے میڈم و عوامی نمائندوں سے ملاقات کر نمائندگی کر رہی ہے۔نیز اس ضمن میں شہر ایم ایل اے مفتی اسماعیل قاسمی،سابق ایم ایل اے آصف شیخ، سابق اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرپرسن ڈاکٹر خالد پرویز،جنتا دل صدر مستقیم ڈگنیٹی، اپوزیشن لیڈر شان ہند، کارپوریٹر عبدالماجد، وغیرہ مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے وفد جس میں تنظیم کے بانی و ریاستی جنرل سکریٹری ساجد نثار احمد، نائب صدر الطاف احمد،ممبر محمد فیض شامل تھے 1 دسمبر کو کارپوریشن کمشنر دیپک کاسار ،و ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کیا اور تنظیم کی جانب سے مسلسل جاری کوشش کو اجاگر کرتے ہوئے انتباہ دیا گیا کہ جلد از جلد اگر 50 اساتذہ کی رکی تنخواہ ادا نہیں کی گئی تو سخت تحریک شروع کی جائے گی جس کا ذمے دار کارپوریشن ہو گا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں