بنکر سیٹھ اپنے مفاد کیلئے حالات کا رونا روکر مزدوروں کا حق مارتے ہیں استحصال کرتے ہیں ‏



مالیگاؤں کے پاورلوم بنکرس جو یہاں کے غیر ایمان والے بیوپاریوں کے اشارے اور انگلی پر کٹ پتلی کی طرح ناچتے ہیں بیوپاری بول دیا کہ ہم فلاں فلاں تاریخ تک مال نہیں خریدیں گے اور نیا سودا نہیں کرینگے بس پھر کیا یہاں کہ بنکرس انکے اشارے پر کٹپتلی اور فرنگی جیسے ناچنے لگتے مٹینگ کے نام پر چیٹنگ کرتے ہیں اور بند کا فیصلہ کرتے ہیں جسکی وجہ سے پاور لوم مزدور اور ان سے وابستہ تمام شعبے کے مزدوروں کا استحصال ہوتا ہے انہیں اپنا مفاد نظر آتا ہے مزدوروں کا کوئی خیال نہیں اور فکر نہیں کہ یہی مزدور ہمیں کپڑا چلاکر دیتے ہیں اگر یہ مزدور کپڑا بن کر نہیں دئیے تو کیا انکا کپڑا فروخت ہوگا؟کیا انکا نیا نیا کارخانہ بنے گا؟اور دیگر مزدور جیسے تراشن پر نری نہیں بھرے تو کپڑا کیسے تیار ہوگا؟اور مقادم لوم نہیں بنایا اور کلئیر کیا تو کیا کپڑا اچھا بنے گا؟اور میتھا اگر گھڑی نہیں لگایا تو ایک میٹر مال فروخت ہوگا یا اتری ہوئی ڈوری اور رول ایسے ہی مارکیٹ میں جائیگا کیا؟رچھ بھرنے والا اگر رچھ نہیں بھرا یا بھیم جوڑنے والابھیم نہیں جوڑا تو کیا کپڑا تیار ہوگا؟
یعنی سب کچھ ملاکر اگر بنکرس سیٹھ بنتے ہیں تو صرف تمام شعبے کے مزدوروں کی بدولت اور نیا نیا شیڈ بناکر 100۰100لوم فٹ ہوتاہے تو وہ بھی مزدوروں کی مہربانی سے ہوتا ہے 

لیکن آج جو 10۰12سال سے بنکروں پر حالات آرہے ہیں وہ صرف اللّٰہ پاک کو بھول کر غیر ایمان والے بیوپاریوں کے اشارے اور انگلی پر ناچنے اور انکی داڑی میں ہاتھ لگاکر کپڑا فروخت کرنے اور انکے چپلوں کے پاس بیٹھ کر اپنے آپکی توہین کرنے سے یہ خود بھوگت رہے ہیں اور یہ حالات اللّٰہ پاک کی طرف سے ایک طرح کی مار اور چوٹ ہے لیکن ان سب باتوں کا انہیں کوئی احساس نہیں ہے بس اپنا مفاد تو اپنا مفاد اور مزدوروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں بلکہ مزدوروں کا استحصال کرتے ہیں 
لہذٰا ان باتوں کو ذہن میں بٹھائے اور 15سال ماضی کو یاد کرے طاقت بنائے رعب سے خرید وفروخت خریں غیر ایمان والے ناچانے والے بیوپاریوں کے اشارے پر چلنا بند کریں اپنے تمام ہی مزدوروں کاخیال رکھیں انکو لے دے کر چلیں انشااللہ اللّٰہ پاک سالوں سال سب کو خوش رکھے گا اور سارے مسائل ختم ہوجائینگے 
یہ آرٹیکل شہر کے تمام ہی مزدور آگے زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اور آخر میں شہر کے بنکرس کو یہ سچائی خراب لگے تو معذرت چاہتے ہیں مگر سچ کتنا بھی کڑوا ہو وہ تو بحرحال سچ ہوتا ہے

کوئی تبصرے نہیں: