جلوسِ عید میلاد النبی پر سرکار اور پولیس کا رویہ نا مناسب
ذمہ داران اگر جلوسِ مبارکہ کا انعقاد کرتے ہیں تو جنتادل سیکولر شہر بھر میں جلوس کا شایانِ شان استقبال کرے گا
پچھلے سات آٹھ مہینوں سے کورونا وبا کی آڑ میں سرکار نے تمام مذہبی، سماجی تقاریب پر سختی سے پابندی عائد کر رکھی ہے. مرکزی ہو یا ریاستی سرکار، جب انہیں خود کا مفاد نظر آتا ہے تو برابر سیاسی فائدے کیلئے کبھی رام مندر کا بھومی پوجن کیا جاتا ہے، کبھی ریاست میں پنڈھر پور یاترا بھی منعقد کردی جاتی ہے. مگر جب اقلیت یا مسلمانوں کے مذہبی عقائد کی بات آتی ہے تو سرکار اور انتظامیہ کو کورونا وبا کے پھیلنے کا ڈر ستانے لگتا ہے.
آنے والے جمعہ یعنی 30 اکتوبر کو جشنِ عید میلاد النبی کے موقع پر نکلنے والے روایتی جلوس کے تعلق سے مقامی انتظامیہ پرمیشن نہ دینے کا مکمل ارادہ ظاہر کر چکی ہے. حالانکہ اوپر سے نیچے تک سبھی سرکاری افسران نہ صرف یہ جانتے ہیں کہ کورونا کا مرض مالیگاؤں کے مشرقی علاقے سے بالکل ختم ہوچکا ہے بلکہ مالیگاؤں سے کورونا کے ختم ہونے کے نام پر اپنی پیٹھ بھی تھپتھپا رہے ہیں.
انتظامیہ کی اس غیر ضروری پابندی کی جنتادل سیکولر کی جانب سے پر زور مذمت کی جاتی ہے. جنتادل سیکولر اپنے مربی لیڈر ساتھی نہال احمد صاحب کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جلوسِ عید میلاد النبی کے انعقاد کی کوشش کرنے والوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے. جیسا کہ ماضی میں ساتھی نہال احمد صاحب فرقہ پرستی اور انتظامیہ کے غیر ضروری دباؤ کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرتے اور جلوس پر اُٹھنے والی ترچھی نگاہ کا منہ توڑ جواب دیتے.
موجودہ حالات میں ذمہ داران و قائدین اگر جلوسِ عید میلاد النبی کے انعقاد کا فیصلہ کرتے ہیں تو جنتادل سیکولر نہ صرف قائدین کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی بلکہ شہر بھر میں جلوسِ مبارکہ کا شایانِ شان استقبال بھی کرے گی.
جنتادل سیکولر ،مالیگاؤں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں