سید معین میاں اشرفی الجیلانی کی قیادت میں رضا اکیڈمی وفد کی ڈائرکٹر جنرل آف پولیس سبودھ کمہار جیسوال کے ساتھ میٹنگ میں مطالبہ ‏

*جلوسِ عید میلادالنبی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرہن مبارک کی زیارت کی اجازت دی جائے ......*

*جلوسِ عید میلادالنبی کی اجازت کے لیے درخواست دینے والوں کو  ہراساں کرنا بند کیا جائے ...... ( محمد سعید نوری )*
............................................. 
ممبئی / 
پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا یومِ ولادت جسے مسلمان  عید میلادالنبی کے طور پر مناتے ہیں، پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، 
جس طرح جگن ناتھ یاترا اور دیگر کئی موقعوں پر برادران وطن کو اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے اسی طرح مسلمانوں کو بھی عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے، جلوس مبارکہ نکالنے اور پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرہن شریف کی زیارت کی اجازت دی جائے، اس طرح کا مطالبہ آج مسلمانوں کے ایک نمائندہ وفد کی قیادت کرتے ہوئے پیر طریقت مولانا سید معین میاں اشرفی الجیلانی نے کیا، اس موقع پر ممبئی کے علاوہ خلدآباد، مالیگاؤں، اورنگ آباد، کلیان، بھیونڈی اور دیگر شہروں کے نمائندگان بھی موجود تھے..... ، 
مولانا سید معین میاں نے کہا کہ خلدآباد شریف میں حضور سید عالم، مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرہن مبارک کی موجودگی مسلمانان ہند کے لیے بہت بڑی نعمت ہے، مشہور بزرگ حضرت خواجہ سید زین الدین شیرازی علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر موجود پیرہن شریف کی زیارت 701 برسوں سے عید میلاد کے موقع پر کی جاتی رہی ہے، اس لیے ہماری گزارش ہے کہ امسال بھی پیرہن مبارک کی زیارت کی اجازت دی جائے....... 
اس موقع پر بانی رضا اکیڈمی الحاج محمد سعید نوری نے ریاست مہاراشٹر کے ڈی جی شری جیسوال سے کہا کہ پوری ریاست کا مسلمان ممبئی کے مسلمانوں کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اس عنوان کو لے کر مسلمانوں کی جانب سے ہم پر بھی بہت دباؤ ہے. یہی وجہ ہے کہ عید میلاد النبی کو لے کر ہم نے ہائی کورٹ جانے کا اعلان بھی کیا ہے اور ہم اس کی تیاری میں بھی ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ جو راحت ہائی کورٹ سے ملنے والی ہے وہ ہمارے درمیان گفتگو سے اگر مل جاتی ہے تو یہ بات سبھی کے حق میں بہتر ہے. آپ نے اس موقع  پر کہا کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں جلوس عید میلاد النبی کے لئے ذمہ داران کی جانب سے پرمشن طلب کرنے والوں کے ساتھ پولس کی زیادتی اور نوٹس دینے کی شکایات بھی موصول ہورہی ہیں جو بالکل نامناسب عمل ہے. ہمارا مطالبہ ہے کہ ریاست کے کسی بھی شہر میں جلوس عید میلادالنبی کے لیے درخواست دینے والوں کو ہراساں نہ کیا جائے........ 
اس موقع پر ڈاکٹر رئیس احمد رضوی اور حاجی یوسف الیاس نے بھی اظہار خیال کیا، ڈی جی مہاراشٹر سبودھ کمار جیسوال نے شرکائے میٹنگ کی باتوں کو توجہ سے سننے کے بعد کہا کہ عید میلادالنبی کے متعلق آپ حضرات کے احساسات اور جذبات کو میں آج ہی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ مہاراشٹر ادھو ٹھاکرے تک پہنچاؤں گا، اور خود بھی یہ اپیل کروں گا کہ جلوس عید میلاد کے متعلق کوئی ایسا فیصلہ کیا جائے جو سب کے لیے قابل قبول ہو. موصوف نے کہا کہ مہاراشٹر پولیس کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ریاست میں جلوس عید میلادالنبی کی پرمیشن طلب کرنے والوں کو کہیں بھی پریشان نہیں کیا جائے گا، اسی کے ساتھ موصوف نے یہ بھی کہا کہ میں خود اورنگ آباد میں رہ چکا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ پیرہن شریف سے مسلمان کس قدر عقیدت رکھتے ہیں، ہم کوشش کریں گے کہ ریاستی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں اس مسئلے کا بھی کوئی بہتر حل نکالا جا سکے، رضا اکیڈمی مالیگاؤں کی جانب سے ڈاکٹر رئیس رضوی نے کہا کہ ریاست کے مسلمانوں کا برسوں سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ عید میلاد کے دن "ڈرائے ڈے" کا اعلان کرتے ہوئے شراب پر پابندی عائد کی جائے. یہ صحیح وقت ہے کہ وباء کے حالات میں اس مطالبے کو ہر سال کے لئے ریاست میں نافذ کیا جائے. رضا اکیڈمی مالیگاؤں سے شکیل احمد سبحانی اور رضوی سلیم شہزاد نے بھی نمائندگی کی. جبکہ آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء مالیگاؤں کی نمائندگی کرتے ہوئے حاجی یوسف الیاس نے کہا کہ جس طرح جگن ناتھ یاترا کے لئے خصوصی پرمشن دیا گیا تھا اسی طرح جلوسِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی خصوصی پرمشن دیا جانا چاہیے. سنی جمعیۃ العلماء مالیگاؤں سے عمران رضوی، اکبر اشرفی، نورالعین صابری کے ساتھ نمائندہ شامنامہ مالیگاؤں خلیل عباس بھی موجود رہے. اورنگ آباد سے آئے وفد میں ساجد رضوی، محمد حسین رضوی، مصطفی رضا خان، مولانا عبدالعلیم نظامی، حافظ عارف نوری، محمد ظفر نظامی، حاجی اقبال قادری، بھیونڈی سے شرجیل رضا قادری، شکیل رضا رضوی وغیرہ موجود رہے. اس موقع پر ڈی جی جیسوال کو رضا اکیڈمی ممبئی اور آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء مالیگاؤں کی جانب سے تحریری میمورنڈم بھی دیا گیا.

کوئی تبصرے نہیں: