علی اکبر ہاسپٹل میں قتلِ انسانیت ‏


*"ایک بے گناہ انسان کا قتل یعنی ساری انسانیت کا قتل" یہ بات کسی انسان نے نہیں بلکہ خدا وند نے خود قرآن مجید میں کہی ہے..... آج ایک بار پھر مسجدوں و میناروں کے شہر مالیگاؤں میں واقع علی اکبر ہاسپٹل میں دو معصوم زندگیوں کا قتل ہوا اور وجہ سرکاری ہسپتالوں کی وہی پرانی روایت" لاپرواہی بے فکری" اور نالائق انتظامیہ ......ہم اسے حادثہ نہیں کہہ سکتے بلکہ اسے سنگین جرم کہیں گے قتل کا جرم.....اور ایسا جرم کرنے والوں پر عدالت میں مقدمہ ہونا چاہئے اور انہیں پوری پوری سزا ملنی چاہئے.....  جہاں ایسے سند یافتہ مجرم اپنے جرائم کو انجام دے رہے ہیں وہیں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو انسانیت کی خدمت کے لئے ہمیشہ ہمہ تن گوش رہتے ہیں جی ہاں میں بات کررہا ہوں مجلس اتحادالمسلمین کی سر گرم رکن وکارپوریٹر محترمہ سعدیہ لئیق حاجی اورکارپوریٹر اسلم انصاری کارپوریٹر نعیم پٹیل و سابق کارپوریٹر شکیل جانی بیگ وغیرہ کی جنھوں نے موقع واردات پر پہنچ کر علی اکبر ہاسپٹل کے انتظامیہ کی حاظری لی اور سخت برہم ہوئے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ معاملہ ایک حاملہ خاتون کا تھا جو کہ نازک حالت(ایمرجنسی) میں ہاسپٹل میں ڈیلیوری کے لئے ایڈمٹ کی گئی تھی لیکن.............. ڈاکٹر کی وقت پر نا موجودگی سے اور طبی سہولیات نہ ملنے سے اس عورت کی جیسے تیسے ڈیلیوری کردی گئی اور اس عورت کے دو معصوم جڑواں بچے اس دنیا میں آتے ہی انتقال کر گئے....... انا للہ وانا الیہ راجعون*

اس شہر کے لئے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے آج ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس شہر میں اور کس طرح سے رہ رہے ہیں..... کیا ہم جانوروں سے بھی بدتر زندگی جی رہے ہیں!
ہمارے ہی شہر میں سرکاری ہسپتالوں کی ایسی درگت کیوں...؟کون ہے اس کا ذمہ دار "ہم اور آپ" یا پھر ہمارے شہر کی گھٹیا سیاست.......؟ 
*ہمیں سعدیہ لئیق حاجی جیسے درد مند خدمت گاروں کا ساتھ دینا ہوگا ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا ہوگا تب جا کر ایسے سرکاری ہسپتالوں کی کچھ خامیاں دور ہوگی*

کوئی تبصرے نہیں: