پوچھتا ہے مالیگاؤں ! کون بنا رہا ہے نسل نو کو نشے کا عادی


مالیگاؤں میں مختلف سماجی,  فلاحی و ملی تنظیموں کی جانب سے "نشہ مکت ابھیان" کی کوشش ہر وقت اور ہر درجہ میں کی جاتی رہی ہے.  لیکن آج شہر کے زیادہ تر نوجوان جس میں کم عمر لڑکے مختلف قسم کے خطرناک نشے کے عادی بن چکے ہیں.

قوم کا سرمایہ کہلانے والی نسل نو کے خون میں مختلف قسم کا زہر گھول دیا گیا ہے.  نوجوان لڑکے مختلف قسم کا نشہ جس میں شراب نوشی,  کتا گولی, الپرا زولم ٹیبلیٹ, کوریکس, ڈی ایس,  ڈیزوپام, چرس,  گانجہ, افیم, سولیشن اور انجیکشن کے عادی ہوچکے ہیں. گٹکا, گائے چاپ تمباکو, بیڑی, سگریٹ اور پان تو عام بات ہوچکی ہے. 

ایک طرف پولس انتظامیہ میڈیا میں بتلاتی ہے کہ ڈرگ ڈیلر گرفتار کیا گیا لیکن دوسری طرف میڈیکل پر بیچنا یا رکھنا پابندی لگا دی گئی ہے پھر بھی شہر میں مختلف اڈوں پر ہر طرح کے نشے کا سامان کھولے عام بیچا جارہا ہے.  

کون ہے ان سب کا زمہ دار ؟ کیوں پولس شکنجہ کسنے میں ناکام نظر آرہی ہے ؟ کیوں دن بہ نشہ کرنے والوں اور نشیلی اشیاء میں اضافہ ہورہا ہے؟ کیوں اسپیشل اسکواڈ کے ذریع کاروائی نہیں ہوتی؟ کون بنا رہا ہے نسل نو کو نشے کا عادی ؟ کیا اس کے پیچھے بھی سیاست اور سیاسی گھرانے کردار ادا کررہے ہیں؟ پوچھتا ہے مالیگاؤں!

فقط : شیخ فیروز (رکن,  مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ)

کوئی تبصرے نہیں: