‎صوفئ ملّت بہترین قائد، مردِ مجاہد، دور اندیش، خوش گفتار، ملنسار، رحم دل شخصیت کا نام تھا

*ازقلم : محمد عارف نوری*
*(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں)*
(پریس ریلیز) 
وہ چاہتا تھا کاسہ خرید لے میرا 
میں اس کے تاج کی قیمت لگا کر لوٹ آیا 
مرحوم صوفی غلام رسول قادری صاحب کا نام محتاجِ تعارف نہیں ہے صوفی غلام رسول قادری صاحب کا اس دنیا سے رخصت ہونا شہر ہی نہیں بلکہ پوری قوم کا نقصان ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی کل ہی صوفی صاحب سے ملاقات ہوئی تھی دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ صوفئِ ملّت صوفی غلام رسول قادری صاحب ہمارے بیچ نہیں رہے مرحوم صوفی غلام رسول قادری صاحب بہترین قائدین میں شمار کیے جاتے تھے صوفی صاحب کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے جب بھی حضورِ پاک صل اللہ علیہ وسلم کی شانِ بابرکات میں گستاخی کی جاتی، اسلام مخالف طاقتیں آواز بلند کرتی، شریعتِ مطہرہ میں دخل اندازی کی جاتی، مسلمانوں پر ظُلم و ذیادتی کی جاتی، ملکِ ہندوستان پر کوئی آنچ آتی، دہشت گردی کے خلاف، عورتوں اور معصوم بچیّوں کی عصمت دری وغیرہ کے خلاف بلا تفریقِ مسلک صوفئ ملّت صف ِاوّل میں نظر آتے اور پوری طاقت کے ساتھ ظالموں کے خلاف لڑتے تھے تحُفظِ شریعت، اصلاحِ معاشرہ، دستور کی حفاظت، امن سلامتی، بھائی چارگی، اتحّاد و اتفاق، تعمیر و ترقی، انسانیت کے علمبردار تھے مرحوم صوفی غلام رسول قادری صاحب کُل جماعتی تنظیم کے اہم ذمہ داروں میں تھے صوفی صاحب نے ہمیشہ ہی تمام جماعتوں کے علمائے کرام کو قوم کی بھلائی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتے تھے تمام مسالک اور مکاتبِ فکر کے علمائے کرام اُن کی عزّت ادب و احترام کیا کرتے تھے صوفی صاحب نے ہر شعبے میں کامیاب نمائندگی کی مساجد، مدارس، خانقاہوں، درگاہوں، اولیاء اللہ سے گہرا تعلق رکھتے تھے ہمیشہ اتحّاد و اتفاق کی بات کرتے تھے لوگوں کو جوڑنے کی بات کیا کرتے تھے ہندو مسلم بھائی چارگی و اتحّاد کے لئے برادرانِ وطن کے پروگراموں میں شرکت کرتے انھیں اپنے پروگراموں میں مدعو کرتے تھے پولس ڈپارٹمنٹ، کارپوریشن و دیگر ڈپارٹمنٹ، آفیسران میں صوفی صاحب کی شخصیت کا رُعب اور دبدبہ تھا بڑے بڑے آفیسران صوفی صاحب کو آتا دیکھ کھڑے ہوتے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے صوفی غلام رسول قادری صاحب کی شرکت ہی پروگرام کی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتی تھی صوفی صاحب کی تقریریں مُدلّل، بااثر ہوا کرتی تھی ظُلم اور ظالم کے خلاف صوفی صاحب شیر کی طرح دہاڑتے اور ببانگِ دہل حکومتِ وقت کے سامنے اپنی باتیں رکھا کرتے تھے صوفی غلام رسول قادری صاحب کو میں اپنا استاد، محسن، مشیر، رہنما اور قائد مانتا ہوں صوفی صاحب جب بھی مجھ سے مخاطب ہوتے تو عارف نوری صاحب ہی کہتے تھے یہ صوفی صاحب کا مجاز تھا ہر چھوٹے بڑے کی عزّت اور اُن کے ساتھ مشفقانہ رویہ رکھتے تھے صوفی صاحب نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی اور مجھ سے کہتے تھے " تمھارے خدمتِ خلق کے جذبے کو دیکھ کر مجھے اپنی جوانی کے دن یاد آتے ہے میں نے بھی اپنی زندگی میں بہت اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں لوگوں کے لعن طعن کو برداشت کیا ہے اپنوں کو دغا اور غیروں کو وفا کرتے دیکھا ہے مشکلوں میں ہمارے اپنے ہی لوگوں کو ساتھ چھوڑتے دیکھا ہے جب بھی قوم کے لیے آواز اٹھائی ہمارے ہی لوگوں نے ٹانگ کھینچی، دین کے کام کے لیے نکلتے تو بہت تکلیفیں، دشواریوں سے گزرنا پڑتا تھا زندگی میں بہت کچھ سیکھا ہے تمھارے ساتھ بھی بہت کچھ ہوگا اسے برداشت کرنا اپنی نیت کو نیک اور بھروسہ اللہ پاک کی ذات پر رکھنا انشاءاللہ ایک وقت آئے گا لوگ تمھاری مثالیں دینگے آپ جیسے بے باک، مخلص، ایماندار نوجوانوں کی شہر اور قوم کو ضرورت ہے اللہ پاک تمھیں ضرور کامیاب و کامران کرے گا ۔" صوفی صاحب کے یہ جملے آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے اور مجھے حوصلہ ملتا ہے صوفی صاحب کے اندر گھمنڈ، تکّبر نہیں تھا رحم دلی، خوش گفتاری، ملنساری صوفی صاحب کی خصوصیات میں سے تھی ہر کسی سے اسطرح بات کرتے جیسے برسوں سے جان پہچان ہو صوفی صاحب چھوٹے، بڑے، امیر، غریب میں فرق نہیں کرتے تھے سب کا ادب، عزّت و احترام کیا کرتے تھے سیاسی لیڈران میں صوفی صاحب کا الگ ہی مقام تھا بڑے بڑے لیڈران صوفی صاحب سے مشورہ کیا کرتے تھے صوفی صاحب جدھر ہوجاتے اُس کا پڑلا بھاری ہوجاتا تھا ڈپارٹمنٹ میں اپنی بات منوانے کا عجب ہُنر تھا سوشل ورکروں کی حوصلہ افزائی کے لئے چھوٹے بڑے پروگراموں میں شرکت کرتے ان کی رہنمائی کرتے، سرپرستی کرتے، دعاؤں سے نوازا کرتے تھے تاکہ ان کے اندر خدمتِ خلق کا جذبہ مزید پیدا ہو اور انھیں حوصلہ ملے صوفی صاحب کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ہماری قلم اسے لکھنے سے قاصر ہے صوفی صاحب انسانیت کے لیے ایک مثال تھے اللہ پاک سے دعا ہے کہ مرحوم صوفی غلام رسول قادری صاحب کی قبر میں نور و انوار کی بارش فرمائے جنت الفردوس میں حضورِ پاک صل اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں جگہ عطا فرمائے ان کے درجات کو بلند فرمائے ان کے نام اور کام کو ہمیشہ زندہ رکھیں آمین یارب العالمین ۔

کوئی تبصرے نہیں: