شـــــہر مــیں عــــــوام کـــو بے وقوف بناتے ہوئے جزباتی سیاست کی جاتی ہے
از ✍🏻 قلم :~ شــــیخ انـــــــیس مــــستری
شـــــہر بھـــــر مـــیں اتی کرمن سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ جات کا خاتمہ ہی شہر کی ترقی کیلئے پہلی سیڑهی ثابت ہوگا
لیکن شہر کی سیاست بیس برسوں سے* گٹر ،، گندگی ،، کچرا ،، راستوں کی خستہ حالی اور راستوں کے گڑھوں میں ہی دفن ہوچکی ہے
_اور اقتدار پر قابض افراد گندگی کے ڈھیر اور راستوں کے گڑھوں پر کھڑے رہے کر نعرہ لگاتے ہے_
تعمیر و ترقی زندہ باد
یہ تو سچ ہے کہ عوامی ووٹوں سے چن کر آنے والے ٹھیکے دار نما* کارپوریٹر کی ترقی تو خوب ہوجاتی ہے گھٹیا اور ناکاره تعمیری کام کے نام پر یا بغیر تعمیری کام کے ان کے بل کارپـــــــوریـــــشن سے برابر نکل جاتے ہیں
شہر مثائل کے انبار میں گھرا ہوا ہے* جگہ جگہ اتی کرمن اوپن اسپیس زمینوں پر ناجائز تجاوزات عوامی نمائندوں کو نظر نہیں آتے 40 فٹ کے روڑ کی تعمیر کی منظوری لے آؤٹ کے ذریعے تو کارپـــــــوریـــــشن سے برابر لی جاتی ہے لیکن اتی کرمن کے نام پر تعمیر ادھوری کی جاتی ہے اور بل مکمل نکال لیا جاتا ہے
اور کارپـــــــوریـــــشن کے حرام خور افسران وہ چاہے وارڈ انجنیئر ہو چاہے سٹی انجنیئر ہو یا کارپـــــــوریـــــشن تعمیرات ڈپارمنٹ کے دیگر ادھیکاری وہ تمام کے تمام ٹھیکے داروں کے مددگار ہوتے ہیں جن کے ذریعے شہر بھر میں ناکاره تعمیری کام جاری ہے لیکن کارپـــــــوریـــــشن ڈپارمنٹ کی جانب سے کسی قسم کی کاروائی بدعنوان ٹھیکے داروں کے خلاف نہیں کی جاتی ہیں
آج شہر میں سڑکوں کی خستہ حالی وہ چاہے آگرہ روڑ ہو چاہے مشرقی اقبال روڑ ہو یا شہر کے دیگر علاقوں اور مضافاتی علاقوں کے راستے شہر مالیگاؤں کی مفلسی بیان کرتے نظر آتے ہیں !!!
آج بڑا قبرستان کا انتہائی خستہ حالی کا شکار راستہ اور بڑا قبرستان کے آس پاس اتی کرمن ناجائز تجاوزات ووٹ بینک کی سیاست کرنے والے لیڈران اور برسرِ اقتدار کارپـــــــوریـــــشن کے لیڈران کو نظر نہیں آتا ,,,
قبرستان کے روڑ پر پانی کی نکاسی نہیں ہوتی راستے کا گندہ پانی قبرستان کی دیواروں میں اور قبروں میں داخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے قبروں کی حرمت پامال ہورہی ہے لیکن شہر کے لیڈران کو وہ نظر نہیں آتا اور ناہی شہر کی عوام کی تکلیفیں نظر آتی ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں