ترقی پسندیت کا "سرخ استعارہ":-فروغ جعفری فکشن کے، حوالے سے

 اسنے ہوش سنھبالا تو اپنے اطراف اخبارات، رسالے،قلم اور گھر میں رکھے سرخ پرچم کو دیکھا بس پھر کیا۔ تھا سارے کھلونے، ایک کونے میں پڑے اُسے، حیرت سے، دیکھ رہے۔ تھے اور اُس نے وہ سرخ پرچم تھام لیا____
      سرخ پرچم تھامتے ہی اُسے، نظریات ملے۔ اور اسی نظریات کو وہ قرطاس و قلم کے،ذریعے اپنے اندر بندھے باندھ کو توڑنے کی کوشش کرنے لگا پھر اُسے، ایک ذریعہ مل گیا وہ زندگی کے، رنگ منچ پہ محتلف کردار ادا کرنے، لگا کے___
   زندگی، الاؤ کے، گرد بیٹھ کر اُن کرداروں کو زبان عطا کرنے لگا جو اپنے لبوں پہ خاموشی کا پہرہ قائم کئے۔ ہوے۔ چپ چاپ وقت کے ساتھ راکھ ہو جاتے ہیں مگر احتجاج تک نہیں کرتے، ایسے ہی کرداروں کو زبان دینے والے فنکار کا نام "فروغ جعفری،" تھا
        فروغ جعفری جب زندگی کے، کہانی رنگ منچ پہ اپنی کہانیوں کی پوٹلی کھولتے ہیں تو اُن میں راج مستری، پیش امام، موذن، سرحد پہ کھڑا سپاہی، روٹی کپڑا مکان اور بجلی، کی طرح جدوجہد کرتا۔ عام آدمی ان کے کردار قاری کو اپنے آس پاس چلتے پھرتے سانس لیتے محسوس ہوتے۔ ہیں
      جو جرات، بیباگی فروغ جعفری کے، افسانوں میں سانس لیتی ہے وہ مقامی دیگر افسانہ نگاروں کے یہاں خال خال ہی نظر آتی ہے، کیونکہ فروغ جعفری کے، اکثر کہانیاں "زندگی نامہ،" کی تصویر بن جاتے۔ ہیں اور جب وہی کردار مکالمہ قائم کرتے ہیں تو قلمکار دور تک خاموش کھڑا نظر آتا۔ ہے۔ مگر وہ اپنے احساسات، و نظریات اپنے کرداروں کی زبانی سے، پیش کر دیتے ہیں(تھے۔ )  اگرچہ ناکامیوں پر بھی ان کے وہاں گریہ زاری زیادہ پائی جاتی۔ رہ
   احساس اگر فطری ہو تو اُسے احتجاج بننے میں دیر نہیں لگتی "سماج اور سیاست کے بگڑے چہرے، کو مختلف  انداز میں پیش کرکے فروغ اپنی بے چینی کو ظاہر کرواتے، رہے۔ جو بیباگی ہمیں ساجد رشید، منشیا یاد، زاہدہ حنا یہاں نظر آتی ہے، وہی چاپ فروغ کے، فکشن میں بھی واضع طور پر سنائی دیتی ہیں
      بہرحال جو سرخ تحریک ترقی پسند وں نے، شہر میں اپنے تخلیقی عمل سے شروع  کی تھی اُس کی ایک اہم کڑی میں فروغ جعفری بھی شامل تھے۔ جس کا ثبوت "🔴انجمن ترقی پسند مصنفین کی افسانوی نشتوں کا اہتمام شامل ہے۔ موصوف عوامی فنکار واٹس ایپ گروپ کے ایڈمین میں بھی شامل رہے۔ جس میں فکشن شاعری، ڈرامہ پر گفتگو ہوتی رہی ہیں تحریکوں کی ایک عمر ہوتی۔ ہے۔ جو وقت کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے مگر نظریات صفحہ قرطاس پہ سفر کرتے رہتے۔ ہیں یعنی سرخ نظریات کا سفر جاری ہے،
   فروغ اُسی، راستہ کا مسافر تھا آج وہ ہمارے درمیان نہیں مگر نظریات ساتھ ہیں
    اّلہی وہ جہاں کہیں بھی ہوں مولا اپنی رحمت اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ان پر اپنی رحمت نچھاور کرے___آمین
⚫نوٹ(اوپر لکھا خاکہ نما مضمون فروغ جعفری کی حیاتی میں__22-1-2018میں لکھا گیا تھا ) 
    بقلم 🔴احمد نعیم______20-9-2020

کوئی تبصرے نہیں: