بابری مسجد انہدام معاملہ، کل جماعتی تنظیم مزمت کرتی ہے!


ازقلم : محمد عارف نوری 
(صدر حفاظت گروپ مالیگاؤں) 
(پریس ریلیز) بابری مسجد انہدام کیس میں 28 سال بعد فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ لکھنؤ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما
بھارتی، کلیان سنگھ، نرتیہ گوپال داس سمیت تمام 32 ملزمین کو بری کر دیا۔ سی بی آئی کے خصوصی جج ایس کے یادو نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بابری مسجد کا انہدام منصوبہ بند نہیں تھا عدالت نے کہا کہ غیرسماجی عناصر نے بابری مسجد کو منہدم کیا تھا اور ملزم رہنماؤں نے ان لوگوں کو روکنے کی کوشش کی تھی
لکھنؤ میں عدالت سے باہر نکلنے کے بعد ایک بری ملزم جے بھگوان گوئل نے کہا کہ “ہم نے مسجد توڑ دی تھی، ہم میں سخت غصہ تھا، ہنومان جی ہر کار سیوک کے اندر آئے تھے۔ عدالت اگر ہمیں مسجد توڑنے پر سزا بھی دے دیتی تو ہمیں خوشی ہوتی۔ عدالت نے سزا نہیں دی، یہ ہندو دھرم کی فتح ہے، ہندو قوم کی فتح ہے۔ لوگوں نے عدالت میں ایک دوسرے کو گلے لگایا اور جے شری رام کے نعرے لگائے۔”
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ “ملزمان کے خلاف خاطر خواہ ثبوت موجود نہیں ہیں اور سی بی آئی کے ذریعہ پیش کردہ آڈیو اور ویڈیو ثبوتوں کی صداقت کا اب جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔” عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ تقریر کی آڈیو بھی پوری طرح واضح نہیں ہے۔
واضح رہے کہ مقدمہ کی چارج شیٹ میں بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ سمیت 49 افراد کے نام شامل ہیں۔ جن میں سے 17 افراد کی موت ہو چکی ہے حکومت کے دباؤ میں عدالت کے اس فیصلے پر کل جماعتی تنظیم دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے اور مزمّت کرتی ہے عدالت اپنے فیصلے پر نظرِثانی کریں اور اصل و اعلانیہ مجرمین پر سخت سے سخت کارروائی کریں تاکہ ملک کی عوام کو عدالتی انصاف پر یقین باقی رہے ورنہ کل جماعتی تنظیم کی جانب سے جمہوری انداز میں احتجاج کیا جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں: