کب تک شہر کے تعلیم یافتہ نوجوان ناسک, ممبئی, پونہ اور دیگر بڑے شہروں میں روزگار کیلئے در در بھٹکیں گے؟

پوچھتا ہے مالیگاؤں!  تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے شہر میں روزگار کیوں نہیں ؟




از قلم : اظہر رفیق (رکن,  مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ)

مالیگاؤں برائےنام شہر تو بن گیا لیکن دیگر شہروں جیسی سہولیات اور روزگار کے مواقع میسر نہیں ہیں.  شہر میں لاکھوں کی تعداد میں گریجویٹس اینڈ پوسٹ گریجویٹس ,ہزاروں کی تعداد میں بی ایڈ, ڈی ایڈ, بی پی ایڈ, ڈی ٹی اے,  ہزاروں ڈگری یافتہ ڈاکٹرس اور انجینئروں کی ابھی گنتی کی جارہی ہے جو لاک ڈاؤن میں شہر میں نوکری تلاش کر رہے ہیں.کب تک شہر کے تعلیم یافتہ نوجوان ناسک,  ممبئی,  پونہ اور دیگر بڑے شہروں میں روزگار کیلئے در در بھٹکے گے؟

شہر میں پاورلوم صنعت ایک واحد روزگار کا ذریعہ ہے جس سے جڑنے کیلئے تعلیمی لیاقت کوئی معنی نہیں رکھتی ہے. شہر کا دوسرا سب سے بڑا روزگار ٹھیلہ گاڑی پر کام دھندہ کرنا ہے یا پھر سڑک کے کنارے ناجائز قبضہ جما کر کھوکھا یا ٹیبل لگا کر دھندہ شروع کر لینا.  شہر میں پڑھا لکھا ہونا ایک مذاق بن گیا ہے. جس کی وجہ روزگار کی کمی ہے. کیونکہ سماج میں لوگ کہتے ہیں پڑھ لکھ کر کیا کرے گا ؟ یا پڑھ لکھ کر کیا فائدہ ؟

شہر کے تعلیم یافتہ بے روز گار نوجوانوں کا شہر میں کیا مستقبل ہے ؟ پوچھتا ہے مالیگاؤں! شہر کے قائدین اور لیڈران سے جنھوں نے شہر کی ترقی کا ٹھیکہ لیا ہے.  لیکن ترقی کے نام پر صرف بیان بازی اور بھولی بھالی عوام کو بیوقوف بنانے کا کام جاری ہے. پوچھتا ہے مالیگاؤں !شہر میں روزگار کے نئے مواقع کیوں نہیں ؟ انڈسٹریز کیوں نہیں ؟ انفرمیشن ٹیکنالوجی پارک کیوں نہیں؟ اور حکومتی تعلیمی و تحقیقی ادارے اور کمپنیاں کیوں نہیں ؟

کوئی تبصرے نہیں: