اولیاء مسجد ناگپور کے خطیب مولانا عبداللطیف انصاری کا دورانِ خطاب نمازِ جمعہ سے قبل انتقال، ‏


اولیاء مسجد ناگپور کے خطیب مولانا عبداللطیف انصاری کا دورانِ خطاب نمازِ جمعہ سے قبل انتقال، 


مصلیانِ مسجد کے ساتھ پورا علاقہ محوِ حیرت.

مفتیِ اعظم مہاراشٹر، مفتی محمد مجیب اشرف صاحب قبلہ کی حیات و خدمات پر تعزیتی کلمات پیش کرنے کے دوران دل کا دورہ پڑا اور روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی....
-------------------------------------------
از قلم:
رضوی سلیم شہزاد،
مالیگاؤں
09130142313


ناگپور: (7 اگست 2020) ایک روز قبل وصال فرمانے والے مفتیِ اعظم مہاراشٹر، اشرف الفقہا، مفتی محمد مجیب اشرف رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیات و خدمات کا تذکرہ جاری ہے، جمعہ کی نماز کا انتظار ہے، مومن پورہ مسلم مرکزی قبرستان کے احاطے میں موجود اولیاء مسجد نمازیوں سے کھچاکھچ بھری ہوئی ہے، خطیب مسجد نوجوان عالمِ دین مولانا ایاز الحق اسمعیلی تقریر فرما رہے ہیں، تقریر کا موضوع ہے موت کی حقیقت....، لوگ باگ پوری طرح متوجہ ہیں، دنیا کی بے بساطی اور اصل اخروی زندگی کی تیاریوں کی نصیحتوں پر مبنی وعظ سن کر مصلیان مسجد اپنے ایمان و یقین کو پختہ کررہے ہیں، اچانک خطیب جمعہ نے اپنے خطبے کو مختصر کیا اور اعلان کیا کہ اب میں چاہوں گا کہ بزرگ عالمِ دین، خطیبِ جمعہ مولانا عبداللطیف انصاری اشرفی صاحب مائک پر تشریف لائیں اور اپنی نصیحت آموز باتوں کے ساتھ مفتیِ اعظم مہاراشٹر، علامہ مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ والرضوان کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش فرمائیں... اتنا کہتے ہوئے مولانا ایاز الحق اسمعیلی صاحب نے مسجد کا مائک مولانا عبداللطیف اشرفی کے حوالے کیا...
چونکہ ان دنوں ناگپور سمیت پوری ریاست بلکہ پورا ملک کووڈ 19 کی وباء کے خوف تلے دبا ہوا ہے... کووڈ 19 کے پازیٹیو مریضوں کی تعداد کے معاملے میں ناگپور شہر کے حالات دگرگوں ہیں... حکومت و انتظامیہ کی جانب سے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل آوری جاری ہے.... ایسے وقت اور حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مولانا عبداللطیف انصاری اشرفی صاحب نے اپنی نصیحت آموز تقریر کا موضوع قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ وَاِذَا مَرِضتُ فَھُوَا یَشفِین کو منتخب فرمایا..... اور اولیاء مسجد کے مصلیان سے مخاطب ہوئے کہ اللہ نے ہی بیماریاں پیدا فرمائی ہیں اور وہی ہمیں شفا بھی عطا فرماتا ہے. بیماری سے ڈرنے کی بجائے اسے پیدا فرمانے والے رب کا ڈر اپنے دلوں میں پیدا فرمائیں پھر احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا بھی ہوں. اب جس کے مقدر میں شفا ہوگی اسے یقیناً شفا عطا ہوگی اور جس کی زندگی کے لمحات پورے ہوچکے ہوں گے اسے قضا و قدر سے کوئی نہیں بچا سکتا.... اتنا کہتے ہوئے مولانا عبداللطیف انصاری اشرفی صاحب نے اپنی تقریر کا رُخ مفتی اعظم مہاراشٹر کے ایک روز قبل ہوئے وصال کی جانب موڑ دیا اور مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ کی حیات و خدمات، تقوی شعار زندگی اور امت مسلمہ کی غمخواری بیان کرتے ہوئے مفتی موصوف سے اپنی والہانہ عقیدت و محبت کو پیش فرمایا.... نماز جمعہ کا وقت آپہنچا تھا.... ابھی آپ مفتیِ اعظم مہاراشٹر، اشرف الفقہا، مفتی محمد مجیب اشرف علیہ الرحمۃ کے لئے دعائیہ کلمات ادا کرہی رہے تھے کہ اولیاء مسجد کے پہلے منزلے پر موجود مجھ سمیت ہر شخص چونک پڑا... ہاں! وہ آواز ایسی ہی تھی جیسے کوئی بھاری بھرکم سامان دھڑ سے گرا ہو.... جیسے کوئی شخص اوندھے منہ دھپ سے ہوا ہو.... دھڑ سے گرنے کی اسی آواز کے فوراً بعد اللہ اکبر اللہ اکبر کی گھبرائے ہوئے مجمع کی چیخیں بھی پہلے منزلے پر موجود ہر شخص نے سنی... آگے کی صف کے کچھ افراد اُٹھ کر مسجد کے منبر و محراب کے اوپر کھلے ہوئے حصے سے جھانکنے لگے... پیچھے سے کچھ آوازیں آئیں کیا ہوا؟ کیا ہوا؟؟ تو کچھ نمازی گھبرا کر نیچے کی جانب بھاگے..... ابھی لوگ کچھ سمجھ پاتے کہ مائک سیدھا کرتے ہوئے کسی اعلان کیا کہ مسجد کے اوپری منزلے پر کوئی ڈاکٹر ہوتو فوراً نیچے آئے.... حضرت مولانا عبداللطیف انصاری اشرفی صاحب اچانک مائک لے کر اوندھے منہ گر پڑے ہیں اور اُن کی حالت تشویش ناک ہے.... یہ اعلان سنتے ہی میں نے مسجد کے اندر سے ہی ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر غلام مرسلین کو فون کیا اور اُنہیں فوری یہاں آنے کی گزارش کی... جس پر انہوں نے کہا کہ وہ اولیاء مسجد سے کافی دوری پر ہیں.... ممکن ہوتو انہیں پڑوس میں ہی موجود میوہ ہاسپٹل لے جایا جائے.... وہیں مائک سے دوسرا اعلان ہوا کہ لاک ڈاؤن کی سختیوں کے سبب پولس انتظامیہ کے آنے کے امکانات ہیں لہذا تمام نمازی حضرات اپنے اپنے گھروں پر تشریف لے جائیں اور ظہر کی نماز ادا فرمائیں....
اس اعلان کے بعد اولیاء مسجد کی پہلی دوسری منزل پر موجود مصلیان نے انتظامیہ سے تعاؤن کرتے ہوئے مسجد کو خالی کردیا.... دوسری طرف مولانا عبداللطیف انصاری اشرفی کو اٹھا کر کچھ لوگوں نے بھاگم بھاگ ہاسپٹل کی راہ لی...
مفتیِ اعظم مہاراشٹر، علامہ مفتی محمد مجیب اشرف رضوی علیہ الرحمۃ کی نماز جنازہ و تدفین میں مالیگاؤں سے ناگپور آئے ہمارے قافلے میں حافظ شریف احمد رضوی، حاجی مقبول سیٹھ اشرفی اور شکیل احمد سبحانی کے ساتھ ناگپور کے ہمارے مخلص رفیق تنویر اشرف رضوی کے ساتھ مسجد میں موجود ڈھیر سارے افراد اس حادثاتی موت پر حیرت و استعجاب، رنج و غم کی تصویر بنے احاطہء قبرستان سے باہر نکلے تو جناب شکیل احمد سبحانی نے بتایا کہ  وہ مسجد کے گراؤنڈ فلور پر ہی تھے ..... جب یہ حادثہ ہوا تو دیگر کئی افراد کے ساتھ انہوں نے خود اُٹھ کر مولانا عبداللطیف انصاری اشرفی صاحب کو اٹھایا، سیدھا کیا اور ماتھے پر موجود پسینے کے قطرات کو صاف کیا تو بدن بالکل ٹھنڈا محسوس ہوا.... زبان سے فوری دعائیہ کلمات ادا کیا....
چلتے چلتے راستے میں اولیاء مسجد کے پہلے خطیب جنہوں نے موت کی حقیقت پر تقریر فرمائی تھی، اُن سے ملاقات ہوگئی. انہوں نے بتایا کہ مجھے اس عنوان پر تقریر کرنے کا حکم خود حضرت مولانا عبداللطیف انصاری صاحب نے دیا تھا..... اور مجھے کہا تھا کہ وہ خود مفتیِ اعظم مہاراشٹر پر تعزیتی کلمات ادا کریں گے لیکن افسوس کہ تعزیتی کلمات کی ادائیگی کے دوران جب وہ یا اللہ کہہ رہے تھے کہ اچانک گر پڑے اور ابھی ابھی اسپتال سے خبر آئی ہے کہ وہ داعئی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے... انا للہ وانا الیہ راجعون.... اولیاء مسجد کے امام حافظ شبیر احمد رضوی کے مطابق مولانا عبداللطیف انصاری اشرفی علیہ الرحمۃ پوری زندگی اسی مسجد میں امامت بعدہ خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے.... آپ کا انتقال مسجد کے اندر نمازِ جمعہ سے قبل، دورانِ تقریر، منبرِ رسول پر قریب 78 / 80 سال کی عمر میں ہوا..... نمازِ جنازہ بعد نماز عشاء اسی قبرستان میں ادا کی گئی اور اولیاء مسجد کے قریب ہی تدفین عمل میں آئی.......... ،

07/08/2020
Friday 
-------------------------------------------
Raza Academy
Malegaon
🍁

کوئی تبصرے نہیں: